ماؤسٹوں کے سرکردہ قائدین کی خودسپردگی

   

کمشنر پولیس رچہ کنڈہ کی روپوش ماوسٹوں سے عام زندگی بسر کرنے کی خواہش

حیدرآباد /21 اگست ( سیاست نیوز ) شہر میں آج ماوسٹ پارٹی کے سرکردہ قائدین نے خودسپردگی اختیار کی ۔ کمشنر پولیس رچہ کنڈہ ، سریدھر بابو کے روبرو ماوسٹ سنٹرل کمیٹی کے اراکین کے سنیتا اور چنور ہریش عرف سرینو نے خودسپردگی اختیار کرلی۔ سنیتا نے 40 سال تک ماؤسٹ پارٹی کے اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں ۔ انٹرمیڈیٹ کے زمانے میں وہ راڈیکلس اسٹوڈنٹ یونین سے متاثر ہوئیں۔1986 سے 1990 تک سنیتا وجئے واڑہ شہر میں سی پی آئی ( ایم ایل ) پیپلزوار گروپ سنٹرل آرگنائزر کی حیثیت سے کام کیا ۔ اس دوران ٹی ایل این چلم عرف گوتم عرف سدھاکر سے ان کی پہچان ہوئی جو محبت میں بدل گئی اور 1986 میں دونوں نے شادی کرلی ۔ 1990 سے1992 تک انہوں نے گنٹور شہر میں سنٹرل آرگنائزر کی حیثیت سے کام کیا اور 1992 میں نلہ ملہ جنگلات میں چلی گئیں۔ نلہ ملہ میں ولی گونڈا ،بائراواکونا ، انکاونٹرس میں حصہ لیا ۔2001 تک نلہ ملہ اور اس کے بعد ڈیویژنل کمیٹی رکن کی حیثیت سے ترقی ملی ۔ اسی سال شوہر کے ساتھ آندھرا۔ اڈیشہ سرحدی علاقہ میں منتقل ہوگئیں ۔2006 میں شوہر کے ساتھ دنڈا کارنیم منتقل ہوئی جہاں پارٹی کیڈر کو مستحکم کرنے کمیٹی نے اس جوڑے کو بڑی ذمہ داری سونپی ۔جون 2025 میں اناپورم نیشنل پارک پر پیش آئے انکاونٹر میں سنیتا شوہر کے ساتھ شامل تھیں۔ ہریش عرف رامنا عرف سینو کو ایریا کمیٹی رکن کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوئی ۔ 10 ویں جماعت میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران بی سی ویلفیر ہاسٹل ایٹوری ناگارم میں وہ ماؤسٹوں سے متاثر ہوا ۔ 2015 میں اشونی سے شادی کر کی‘ جس کے بعد گرفتاریاں اور مختلف مراحل اور حالات کے لحاظ سے اس نے کام کیا ۔ اس موقع پر کمشنر پولیس سدھیر بابو نے بتا یا کہ سرکاری سہولیات اور اقدامات سے متاثر ہوکر ماوسٹ قائدین عام زندگی میں واپس آرہے ہیں۔ انہوں نے ماوسٹوں سے روپوشی چھوڑ کرپرسکون زندگی بسر کرنے کی درخواست کی ۔ کمشنر پولیس نے کہا کہ بدلتے وقت کے ساتھ ماؤازم کمزور پڑھ گیا ہے۔ انہوں نے ماؤسٹوں سے ہتھیار چھوڑکر روپوشی ترک کرتے ہوئے قومی دھارے میں شامل ہونے کی خواہش کی ہے ۔ ع