ماحول دوست سبز زراعت کیلئے اختراعی نینو کیمیاوی کھادضروری

   

نئی دہلی: ملک کی 1.4 ارب کی آبادی کیلئے خوراک کی بہم رسانی کے مقصد سے اناج کی پیداوار بڑھانے کیلئے کیمیاوی کھاد ایک اہم ضروری عنصر کی حیثیت رکھتی ہے ۔ گذشتہ 9 برسوںمیں ہماری کوششوں کے نتیجے میں نائیٹروجن (این) وسیلہ فراہم کرنے کیلئے ایک اہم کیمیاوی کھاد یعنی یوریا کی پیدواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے ۔ جو پیداوار 2013-14 کی 207.54 ایل ایم ٹی سالانہ سے بڑھ کر 283.74 ایل ایم ٹی سالانہ تک پہنچ گئی ہے جو قابل ذکر اضافہ ہے ۔ اسی طریقے سے کیمیاوی کھاد کی صنعت (سرکاری امدادِ باہمی اور نجی شرکائے کار سمیت) بھی اپنے طور پر سرگرمی کے ساتھ دیگر اہم زرخیزی بڑھانے والے عناصر مثلاً فاسفیٹ (پی) پوٹاش (کے ) پر مبنی کیمیاوی کھادوں کو بھی سرگرمی سے فروغ دیتی رہی ہیں۔مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے یہ بات اپنے ایک مضمون میں کہی ہے ۔انھوں نے مزید کہاکہ این پی کے کیمیاوی کھادوں کا متوازن استعمال ہمہ گیر زراعت کیلئے لازمی حیثیت رکھتا ہے تاہم فصلوں کی پیداواریت بڑھانے اور پیہم بنیاد پر فزوں تر ہوتی آبادی کی خوردنی ضروریات کی تکمیل کیلئے مٹی کی زرخیزی کا اہم پہلو، مٹی اور آبی تحفظ کے ساتھ اندھادھند اور غیر متوازن کیمیاوی کھادوں کا استعمال کرکے خسارے کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔
اس کے نتیجے میں مٹی زرخیز عناصر سے عاری ہو رہی ہے اور اسے پانی کی طلب ہے جس کے نتائج اس کی زرخیزی کی حیثیت میں رونما ہونے والے انحطاط کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں افزوں کیمیاوی کھاد استعمال اثر انگیزی (ایف یو ای) کو فروغ دینے کیلئے ایک اختراعی ٹکنالوجی کی ضرورت نمایاں ہوئی تاکہ مٹی اور ماحول کا تحفظ کیا جا سکے ۔ نئے عہد کی نینو تکنالوجی اس مسئلے کا حل بن کر سامنے آئی ہے اور اس کے تحت کم سے کم کیمیاوی کھاد کا استعمال کرکے یعنی استعمال ہونے والی کیمیاوی کھاد کی اثر انگیزی بڑھا کر زیادہ پیداوار حاصل کی جائے گی اور اس کے نتیجے میں ماحولیات پر بھی بہت کم برعکس اثرات مرتب ہوں گے ۔ مانڈویہ نے کہاکہ وزیر اعظم نریندرمودی کی جانب سے میک ان انڈیا کے سلسلے میں دیے گئے نعرے سے واضح ترغیب حاصل کرتے ہوئے ہندوستانی سائنس دانوں نے نینو یوریا (رقیق) وضع کیا ہے ۔ یہ اندرونِ ملک تیار کی جانے والی اولین نینو کیمیاوی کھاد ہے ۔ نینو یوریا کی مشتہری کیمیاوی کھادوں سے متعلق کنٹرول آرڈر (ایف سی او) 2021 کے تحت عمل میں آئی ہے اور یہ مشتہری سخت فیلڈ تجربات اور پوری سختی کے ساتھ حیاتیاتی اثرانگیزی اور حیاتیاتی سلامتی آزمائش کے تمام تر اصول و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بایو تکنالوجی کے محکمے کے نینو زرعی سازو سامان سے متعلق رہنما خطوط کے تحت عمل میں آئی ہے ۔ یہ آتم نربھر زراعت اور آتم نربھرہندوستان کے تحت اپنائی گئی پہل قدمی کی ایک مکمل مثال ہے جو امرت کال کے دوران خوراک اور تغذیہ جاتی سلامتی کے سلسلے میں ملک میں مستقل طور پر اپنائی گئی ہے