مالیگائوں 2006 بم دھماکوں میں اگر حقیقی مجرمین پکڑے جاتے تو مالیگائوں 2008 بم دھماکہ نہیں ہوتا : ایڈوکیٹ

   

مالیگاؤں : مالیگائوں 2006 بم دھماکوں کو انگریزی کلینڈر کے حساب سے 17سال مکمل ہوگئے جس میں 31 معصوم لوگوں کی جانیں تلف ہوئی تھیں جبکہ 312 افراد زخمی ہوئے تھے۔بم دھماکوں کی تفتیش سب سے پہلے مقامی پولس نے شروع کی لیکن اسے ریاستی حکومت کی ایماء پر فوراً ATS نے اپنے ہاتھو ں میں لے لیا اورنہ صرف مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا بلکہ ان کے خلاف ہزاروں صفحات پر مشتمل چارج شیٹ بھی داخل کی۔مالیگائوں 2006 بم دھماکہ کرنے والے حقیقی مجرمین اگر پہلے ہی پکڑے چلے جاتے تو مالیگائوں 2008 بم دھماکہ نہیں ہوتا۔بھگوا دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد مسلم نوجوانوں نے سب سے جمعیۃ علماء ہند قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے مکوکا عدالت میں ضمانت عرضداشت داخل کی جس پر خصوصی مکوکا جج وائی ڈی شنڈے نے تمام ملزمین کی ضمانت منظور کرلی۔جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی ہدایت پر دونوں مقدمات میں بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے مداخلت کی جارہی ہے تاکہ متاثرین کو انصاف حاصل ہوسکے، بم دھماکہ متاثرین کی نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک نمائندگی کرنے والی وکلاء کی ٹیم کااہم حصہ ہے۔