مکمل فیس ادا کرنے کے باوجود تاحال سرٹیفیکٹس کی اجرائی سے ادارہ کا گریز
حیدرآباد۔16 ۔ جون(سیاست نیوز) یونیورسٹی کے حدود میں موجود کالجس ہی اگر طلبہ کیلئے مسائل پیدا کرنے لگ جائیں اور یونیورسٹی کیمپس میں ایسے کالجس چلائے جائیں جن کا کوئی الحاق یا منظوری نہیں ہے تو طلبہ کا مستقبل کیا ہوگا!مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ملک کی قومی سرکردہ یونیورسٹیوں میں شمار کی جاتی ہے لیکن یونیورسٹی کیمپس میں خانگی کالج کے قیام کے ذریعہ طلبہ کے مستقبل کو تباہ کرنے کا موقع فراہم کئے جانے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی نے اپنے حیدرآباد کیمپس میں ’سمانا کالج آف ڈیزائن انسٹیٹیوٹ‘ کو نہ صرف عمارت فراہم کی بلکہ یونیورسٹی کی جانب سے دیگر شہروں میں کالج کیلئے عمارت کا کرایہ ادا کیا جا رہاہے لیکن’سمانا کالج آف ڈیزائن انسٹیٹیوٹ ‘ اپنے فارغین کو اسناد جاری کرنے آمادہ نہیں ہے۔ یونیورسٹی کیمپس میں موجود اس کالج سے تعلیم یافتہ طلبہ اپنے سرٹیفیکیٹ کیلئے کالج کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن ان کے اسناد کی اجرائی میں کوئی پیشرفت نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی یونیورسٹی انتظامیہ ’سمانا کالج آف ڈیزائن‘ کے معاملات سے واقف ہے بلکہ انتظامیہ سے رابطہ کرنے پر انکشاف ہوا کہ یونیورسٹی کیمپس میں موجود اس ’ڈیزائن انسٹیٹیوٹ‘ میں موجود کورسس میں داخلے ’آن لائن ‘ نہیں کئے جاتے جبکہ یونیورسٹی کے دیگر تمام کورسس میںداخلوں کیلئے جو اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے ان کیلئے محض ’آف لائن‘ داخلوں کی گنجائش ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ انسٹیٹیوٹ کے قیام کے بعد اس میں داخلہ حاصل کرتے ہوئے کورس مکمل کرنے والے طلبہ کو اب تک سرٹیفیکیٹ کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی حالانکہ وہ مکمل فیس ادا کرچکے ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ مذکورہ ڈیزائن اسکول کے الحاق کے سلسلہ میں یونیورسٹی حکام کو ہی شبہات ہیں اسی لئے وہ انہیں کسی بھی طرح کے اسناد کی اجرائی سے گریز کر رہے ہیں جبکہ یہ کالج یونیورسٹی کیمپس میں ہی چلایا جا رہا ہے لیکن یونیورسٹی ذمہ داروں کا کہناہے کہ بعض سرکردہ افراد اور تنظیموں کی سرپرستی کے سبب وہ ’سمانا ڈیزائن اسکول‘ کے متعلق کسی بھی طرح کا تبصرہ کرنے کے موقف میں نہیں ہیں کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ان کی ملازمت کیلئے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ بتایاجاتاہے کہ یونیورسٹی انتظامی امور میں ’مسلم راشٹریہ منچ‘ کی بڑھتی مداخلت کے نتیجہ میں ایسی کئی سرگرمیاں چل رہی ہیں جو مجموعی طور پر اردو زبان ‘ اردو ذریعہ تعلیم اور اداروں کی سرگرمیوں سے حکومتوں اور عوام کو بدظن کرنے کی وجہ بن رہی ہیں۔3/k/b