ماہِ محرم الحرام کی اہمیت

   

جناب محمد رضی الدین معظم
محرم کے لغوی معنی حرمت والا، حرام کیا گیا، ممنوع وغیرہ ہیں۔ اسلامی قمری مہینوں میں یہ پہلا مہینہ ہے۔ یاد رہے کہ اسلامی مہینوں کے نام قدیم عربوں کے رکھے ہوئے ہیں، سوائے ماہ محرم کے۔ قمری کیلنڈر میں اس کا نام صفر الاولیٰ تھا، جو اسلام کی روشنی پھیلنے کے بعد محرم الحرام سے بدل دیا گیا اور اس کے بعد کا مہینہ صفر الاخریٰ ’’صفر المظفر‘‘ بن گیا۔ محرم کانام اس لئے محرم ہوا کہ اس میں قتال کو حرام سمجھا گیا۔ یہ مہینہ چار متبرک مہینوں میں سے ایک ہے۔ اسلام سے پہلے اور بعد میں بھی یہ مہینہ متبرک سمجھا جاتا رہا۔ اس مہینہ میں جنگ وغیرہ ممنوع تھی ۔ ہجرت کے تقریباً ۱۷ سال بعد اسلامی کیلنڈر کی ابتداء ہوئی اور حضور اکرمﷺ کے سفرِ ہجرت کے سال کو اسلامی سنہ ہجری کا پہلا سال قرار دیا گیا۔ محرم الحرام منسوب الی اللہ ہے اور یہ مہینوں کا سرداربھی کہلاتا ہے۔اس ماہ کی دس تاریخ کو یوم عاشوراء کہا جاتا ہے، جس کے دامن سے بہت سے اہم واقعات وابستہ ہیں۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کی، حضرت ادریس علیہ السلام کو مکاناً علیاً کی رفعت سے سرفراز کیا، حضرت نوح علیہ السلام کو طوفان سے اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کو نارِ نمرود سے نجات ملی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت کا نزول ہوا، حضرت یوسف علیہ السلام قید سے نکالے گئے، حضرت یعقوب علیہ السلام کو بینائی عطا ہوئی، حضرت ایوب علیہ السلام سے تکالیف اُٹھالی گئیں، حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے، حضرت داؤد علیہ السلام مقربِ بارگاہِ رب ودود ہوئے، حضرت سلیمان علیہ السلام جلوہ آرائے سلطنت ہوئے اور اسی روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھایا گیا۔ اسی روز دنیا کو وجود بخشا گیا، اسی روز پہلی بار بارانِ رحمت آسمان سے زمین کی طرف نازل ہوئی، اسی روز اللہ تعالیٰ نے عرش، لوح و قلم اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کوجامۂ ہستی پہنایا۔ یاد رہے کہ جس طرح دنیا کا سنگ بنیاد عاشوراء کے دن رکھا گیا، اسی طرح دنیا کا خاتمہ یعنی قیامت بھی یومِ عاشوراء کو واقع ہوگی۔ اسی روز حضور نبی کریم ﷺکے نواسے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ۷۲ رفقاء کے ہمراہ میدان کربلا میں جام شہادت نوش فرمایا۔ اسی ماہ کی ۱۷؍ تاریخ کو اصحابِ فیل نے کعبہ پر حملہ کیا تھا۔
حضرت الحاج صوفی شاہ محمد عبد الشکورقادری چشتی ؒ
ممتاز عالم دین حضرت صوفی شاہ محمد عبد القادر قادری چشتی رازؔؒ واعظ سرکار عالی مسجد چوک کے فرزند اکبر حضرت الحاج صوفی شاہ محمد عبد الشکور قادری چشتی ؒ کی ولادت ۱۱؍ ربیع الاول ۱۳۰۷؁ھ مطابق ۱۹ ؍ نومبر ۱۸۸۹ ؁ء کو شہر حیدرآباد دکن میں ہوئی ۔ آپ حضرت علامہ حاجی میر عالم شاہ صوفی مجددی نقشبندی ؒ خلیفئہ خاص حضرت نقشبند دکن علامہ سعد اللہ شاہ نقشبندی مجددی ؒ (گھانسی بازار)کے نبیرہ ہیں۔ آپ عالم ‘فاضل ‘منشی ‘ اور حکیم ہونے کے علاوہ اردو عربی فارسی انگریزی اور تلگو زبان پر عبور رکھتے تھے۔آپ اپنے والد حضرت سلطان الواعظین کے ساتھ ملک وبیرون ممالک کے دوروں میں شریک رہا کرتے تھے ۔۱۳۴۷؁ھ میں آپکا محترمہ عصمت النساء بیگم بنت سید شریف الدین ؒ کے ساتھ عقد نکاح ہوا اور ۱۳۵۳؁ھ آپ اپنی اہلیہ محترمہ کے ساتھ حج بیت اللہ اور زیارت روضہء اطہر ؑ کی سعادت حاصل کیے۔آپ کو دو لڑکے اور پانچ لڑکیاں تولد ہوئیں۔ آپ کو حضرت سلطان الواعظین صوفی شاہ محمد عبد القادر رازؔؒ نے ۱۳۵۵؁ھ کو بیعت وخلافت سے سرفراز فرمایا اور اپنا جانشین بنایا ۔حضرت ممدوحؒ تقریباً ۶۷ برس قوم وملت کی خدمت انجام دی اور اپنے سلسلے کے بزرگ حضرت علامہ امام المحدثین شاہ ولی اللہ محدث صوفی دہلوی ؒ کے مشن کو آگے بڑھاتے رہے ۔آپؒ نے اپنے فرزند خردحضرت الحاج صوفی شاہ محمد عبد الرزاق قادری چشتی کو ۱۹۶۳؁ء کو بیعت وخلافت سے سرفراز کیا ، اپنا جانشین اور حضرت سلطان الواعظین ؒ کی درگاہ کا سجادہ نشین ومتولی منتخب فرمایا ۔ تقریب جانشینی میں اس وقت کے ممتاز علماء ومشائخین نے شرکت فرمائی ۔ حضرت ممدوحؒ کا ۲۶؍ ذی الحجہ ۱۳۸۴؁ھ مطابق ۲۹ ؍اپریل ۱۹۶۵؁ء کو وصال ہوااور حضرت سلطا ن الواعظین کی درگاہ کے احاطہ واقع صوفی منزل مصری گنج حیدرآبادمیں آپ ؒکی تدفین عمل میں آئی۔ حضرت ممدوحؒ کے سالانہ تقریب عرس کا ۲۵/ذی الحجہ کو درگاہ شریف صوفی منزل مصری گنج حیدرآباد میں انعقاد عمل میں آتاہے ۔