مجالس مقامی کے انتخابات خطرہ میں، الیکشن کمیشن کی حکومت کو رپورٹ

   

چیف منسٹر کے فیصلہ کا انتظار، نائیٹ کرفیو کے نفاذ سے مہم متاثر ہوگی
حیدرآباد۔تلنگانہ میں کورونا پر قابو پانے کیلئے نائیٹ کرفیو کے نفاذ کے بعد مجالس مقامی کے انتخابات پر خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اسٹیٹ الیکشن کمشنر پارتھا سارتھا نے حکومت کو رپورٹ روانہ کرتے ہوئے انتخابات ملتوی کرنے کی سفارش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹرکے فیصلہ کے مطابق الیکشن کمیشن آئندہ قدم اٹھائے گا۔یوں تو الیکشن کمیشن فیصلہ کیلئے آزاد ہے لیکن حکومت کو اعتماد میں لیتے ہوئے اسے فیصلہ کرنا ہوگا۔اسی دوران کورونا کیسس کے پس منظر میں مجالس مقامی کے انتخابات ملتوی کرنے کیلئے ہائی کورٹ میں داخل کی گئی درخواست کو مسترد کردیا گیا تاہم حکومت نے ریاست بھر میں نائیٹ کرفیو نافذ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر مختلف گوشوں سے دباؤ میں اضافہ کردیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسٹیٹ الیکشن کمیشن سے نمائندگی کی گئی ہے کہ ورنگل اور کھمم میونسپل کارپوریشنوں کے علاوہ 5 میونسپلٹیز اچم پیٹ، سدی پیٹ، نکریکل، جڑچرلہ اور کتور کے انتخابات کو ملتوی کیا جائے۔ کارپوریشنوں اور میونسپلٹیز میں پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور 30 اپریل کو رائے دہی مقرر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کورونا کیسس میں اضافہ اور حکومت کی جانب سے نائیٹ کرفیو کے نفاذ کے بعد انتخابات کے انعقاد کا جائزہ لے رہا ہے۔ توقع ہے کہ متعلقہ ضلع کلکٹرس سے مشاورت کے بعد الیکشن کمیشن جلد ہی کوئی فیصلہ کرے گا۔ انتخابی مہم میں عوام کے ہجوم کی صورت میں کورونا وباء کے پھیلاؤ کا اندیشہ برقرار رہے گا ایسے میں الیکشن کمیشن انتخابی مہم اور رائے دہی کی تاریخوں کو آئندہ کیلئے ملتوی کرتے ہوئے اضلاع میں کورونا پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کے نتیجہ میں نلگنڈہ اور ناگرجنا ساگر میں کورونا کیسس میں اضافہ ہوا۔ انتخابی مہم میں حصہ لینے والے کئی اہم قائدین بشمول چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔