سپریم لیڈر کا تحریری بیان ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر پڑھ کر سنایا گیا، ایرانی قوم معزز و غیور
تہران: یکم مئی( یو این آئی) ایران کے سپریم لیڈر نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ اپنی نیوکلیئراور میزائل صلاحیتوں‘ کا قومی اثاثے کے طور پر تحفظ کرے گی جبکہ امریکی صدر ٹرمپ ان مسائل پر کسی معاہدے کے حصول کی کوششوں میں مصروف ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ تحریری بیان سرکاری ٹیلی ویژن پر پڑھ کر سنایا گیا۔مجتبیٰ خامنہ ای نے 28 فروری کو ہونے والے اس فضائی حملے کے بعد سے عہدہ سنبھالا، جس میں ان کے 86 سالہ والد آیت اللہ علی خامنہ ای جان سے گئے تھے۔مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ملک کے اندر اور باہر موجود نو کروڑ غیور اور معزز ایرانی، ایران کی تمام شناختی، روحانی، انسانی، سائنسی، صنعتی اور تکنیکی صلاحیتوں کو (نینو ٹیکنالوجی اور بائیوٹیکنالوجی سے لے کر جوہری اور میزائل صلاحیتوں تک) قومی اثاثہ سمجھتے ہیں اور وہ ان کی حفاظت بالکل اسی طرح کریں گے جیسے وہ ملک کے پانیوں، زمین اور فضائی حدود کی حفاظت کرتے ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ خلیج عرب میں امریکیوں کے لیے واحد جگہ ’پانی کی تہہ‘ ہے کیونکہ آبنائے ہرمز اب بھی تہران کے کنٹرول میں ہے۔مجتبیٰ خامنہ ای نے بیان میں کہا ’خدا کی مدد اور طاقت سے، خلیج عرب کے خطے کا روشن مستقبل امریکہ کے بغیر ہو گا جو یہاں کے لوگوں کی ترقی، راحت اور خوشحالی کا باعث بنے گا۔‘ان کا کہنا تھا ’ہم اور خلیج عرب و (خلیج) عمان کے پانیوں کے پار ہمارے پڑوسی ایک مشترکہ تقدیر رکھتے ہیں۔ وہ غیرملکی جو ہزاروں کلومیٹر دور سے یہاں لالچ اور دشمنی کے ارادے سے آتے ہیں، ان کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے، سوائے پانی کی گہرائیوں کے۔‘یہ بیانات ان رپورٹس کے بعد سامنے آئے ہیں جن کے مطابق امریکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد بنانے کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی محکمہ خارجہ کے ایک مراسلے کا حوالہ دیا ہے جس کے مطابق عالمی ایندھن کی سپلائی میں طویل تعطل کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس بات کی علامت کے طور پر کہ امریکہ جنگ کے خاتمے کے منظرنامے پر بھی غور کر رہا ہے، محکمہ خارجہ کے مراسلے میں شراکت دار ممالک کو ایک نئے اتحاد ’میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ‘ (ایم ایف سی) میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ بحری جہاز آبنائے سے گزر سکیں۔محکمہ خارجہ کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ’ایف ایف سی مشرق وسطیٰ کے لیے تنازعہ کے بعد کے سمندری تحفظ کے آرکیٹیکچر کے قیام کی جانب ایک اہم پہلا قدم ہے۔‘فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک نے اس طرح کے اتحاد میں حصہ لینے پر بات چیت کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے کو کھولنے میں مدد صرف اسی صورت میں دیں گے جب تنازعہ ختم ہو جائے گا۔