مجلس اتحاد المسلمین کی مسلمہ حیثیت ختم کرنے کی درخواست مسترد

   

سیاسی جماعت کے خلاف عدالت الیکشن کمیشن کو ہدایت نہیں دے گی : سپریم کورٹ
حیدرآباد۔16جولائی (سیاست نیوز) سپریم کورٹ آف انڈیا نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی مسلمہ حیثیت کو ختم کرنے کے معاملہ میں داخل کی گئی درخواست کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے درخواست گذار کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے فرقہ وارانہ منافرت پھیلائے جانے کے معاملہ میں غیرجانبدارانہ درخواست داخل کرسکتے ہیں لیکن کسی سیاسی جماعت کو نشانہ بناتے ہوئے کاروائی کرنے کی مانگ نہیں کرسکتے۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالا باگچی پر مشتمل بنچ نے مجلس اتحاد المسلمین کی مسلمہ حیثیت کو ختم کرنے کی الیکشن کمیشن کو ہدایت دینے کی درخواست کو مسترد کردیا۔ عدالت نے مقدمہ کی سماعت کے دوران کہا کہ کئی سیاسی جماعتیں فرقہ وارانہ منافرت پھیلاتی ہیں ‘ کئی سیاسی جماعتیں علاقائی تعصب پھیلاتی ہیں اور کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ذات پات کی سیاست کی جاتی ہے سپریم کورٹ ان معاملات میں راست مداخلت نہیں کرسکتا ۔ جسٹس سوریہ کانت نے درخواست گذار تروپتی نرسمہا مراری کی درخواست میں کئے گئے مجلس کی جانب سے فرقہ واریت کو فروغ دینے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گذار نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین کے ’دستور‘ میں ہے کہ مجلس اقلیتوں کے لئے کام کرے گی جو کہ دستور کے مغائر ہے جبکہ مجلس کے دستور کا جائزہ لیتے ہوئے بنچ نے کہا کہ مجلس کے ’دستور‘ میں ہے کہ سماج کے تمام پسماندہ اور پچھڑے ہوئے طبقات کے لئے مجلس کام کرے گی علاوہ ازیں دستور ہند میں اقلیتوں کو دی گئی خصوصی مراعات کے تحفظ کے لئے جماعت کام کرے گی۔جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالا باگچی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اگر کوئی پارٹی چھوت اچھوت کو فروغ دینے کی سیاست کرتی ہے تو اس کے خلاف دستور کے مطابق کاروائی کی جاسکتی ہے لیکن درخواست گذار نے جو ادعا جات کئے ہیں ان کے مطابق مجلس اتحاد المسلمین کی مسلمہ حیثیت کو ختم کرنے کی ہدایت نہیں دی جاسکتی کیونکہ مجلس کے دستور میں کوئی ایسی قابل اعتراض بات شامل نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ ہدایات جاری کی جاسکیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مجلس کے دستور کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ دستور میں جو کچھ بھی ہے وہ دستور ہند کے دائرہ کار میں ہے اسی لئے سیاسی جماعت کے خلاف کاروائی کے سلسلہ میں عدالت الیکشن کمیشن کو کوئی ہدایت نہیں دے گی اور مقدمہ کو خارج کردیاگیا۔3