مجلس مسلمانوں کی ٹھیکیدار نہیں ہے: چیف منسٹر ریونت ریڈی

,

   

مجلس نے اظہر الدین کو ہرانے میں اہم رول ادا کیا ، کے سی آر نے محمد علی شبیر کو ہرانے کی کوشش کی۔ اسمبلی میں جارحانہ تیور
٭ مسلمانوں کی ترقی کانگریس کی ذمہ داری ‘ کسی سے سیکھنا ضروری نہیں
٭ کانگریس نے 4 فیصد تحفظات دئے ‘ 12 فیصد کے نام پر دھوکہ بی آر ایس نے دیا
٭ مودی اور مودی کے مددگاروں کا ساتھ دینا ہے یا نہیں ‘ آپ فیصلہ کرلیں
٭ کانگریس نے مسلمان صدر جمہوریہ بنایا ۔ چیف منسٹر بنائے ‘ وزیر داخلہ بنایا
٭ پرانے شہر کی تاریخ 450 سال پرانی ‘ شان بڑھانا ہماری ذمہ داری

حیدرآباد۔/21 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر اے ریونت ریڈی نے اسمبلی میں مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ کانگریس پر مسلمانوں کی آواز دبانے کا الزام عائد کرنا درست نہیں ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس نے ہی مسلمانوں کو ہر شعبہ میں آگے بڑھایا ہے ۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس ہی نے ایک مسلمان کو ملک کا صدر جمہوریہ بنایا ۔ کانگریس نے ہی مسلم قائدین کو بہار ‘ اترپردیش اور مہاراشٹرا جیسی ریاستوں کا چیف منسٹر بنایا ۔ کانگریس نے ہی متحدہ آندھرا پردیش میں مسلمان کو پردیش کانگریس کا صدر بنایا ہے ۔ کانگریس نے ہی ملک کا وزیر داخلہ بھی ایک مسلمان کو بنایا تھا ۔ اس کے برخلاف یہ حقیقت ہے کہ مجلس نے جوبلی ہلز سے ہندوستان کے مایہ ناز کرکٹر محمد اظہر الدین کو شکست دینے مسلم امیدوار میدان میں اتارا اور اظہر الدین کو شکست سے دوچار کیا ۔ مجلس کے قریبی دوست کے چندر شیکھر راؤ نے ایک اور مسلم لیڈر محمد علی شبیر کو کاماریڈی سے شکست دینے کی کوشش کی تھی ۔ اسمبلی میں محکمہ برقی پر وائیٹ پیپر کی اجرائی کے بعد کانگریس کے ایک نو منتخب رکن کے سوال پر اکبر اویسی برہم ہوگئے تھے ۔ اکبر اویسی کا جواب دیتے ہوئے ریونت ریڈی نے تیکھے تیور کے ساتھ واضح کردیا کہ مجلس سیاسی جماعت ہے وہ جہاں سے چاہے مقابلہ کرسکتی ہے جس سے چاہے اتحاد کرسکتی ہے ۔ یہ فیصلہ مجلس ہی کو کرنا چاہئے کہ وہ کس کے ساتھ ہے ۔ کیا وہ مودی کے ساتھ ہیں۔ یا مودی کی مدد کرنے والوں کے ساتھ ہیں یہ فیصلہ انہیں کو کرنا چاہئے ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ مسلمانوں کی ترقی اور بہتری کانگریس کی اپنی ذمہ داری ہے ۔ کانگریس حکومت کو مسلمانوں کی بہتری کیلئے کسی سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کانگریس نے ہی مسلمانوں کو چار فیصد تحفظات دئے تھے جبکہ 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کرکے مسلمانوں کو دھوکہ دینے والی حکومت کی تائید مجلس نے کی ہے ۔ آج بھی اکبر الدین اویسی اسمبلی میں گناہ گاروں ( بی آر ایس ) کی تائید کر رہے ہیں۔ بی آر ایس نے مسلمانوں سے دھوکہ کیا اس باوجود اسمبلی میں کے سی آر اور اکبر الدین اویسی ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے رہے اور ایک دوسرے کے اتحاد کی دہائی دیتے رہے ۔ آج اکبر الدین اویسی جن مسائل پر بات کر رہے ہیں وہ 10 سال میں کے سی آر حکومت کے سامنے پیش نہیں کئے اور صرف یہ اعلان کرتے رہے کہ ہم کے سی آر کے ساتھ ہیں اور مستقبل میں بھی ان کے ساتھ رہیں گے ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ مجلس یا اکبر الدین اویسی مسلمانوں کے ٹھیکیدار نہیں ہیں۔ مجلس کو سات حلقوں سے کامیابی ملی ہے تاہم کیا یہ کامیابی صرف مسلم ووٹوں سے ملی ہے ؟ ۔ کیا کسی ہندو نے مجلس کو ووٹ نہیں دیا ۔ اکبر اویسی کو صرف ایک حلقہ کے عوام کا نہیں بلکہ تلنگانہ کے چار کروڑ عوام کا نمائندہ بن کر مسائل اٹھانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اکبر اویسی ایوان میں بی آر ایس کی تعریف کرتے رہیں گو تو ہم سننے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت پرانے اور نئے شہر میں کوئی فرق نہیں سمجھتی ۔ پرانا شہر 450 سالہ تاریخ رکھنے والا عظیم شہر ہے ۔ اس شہر کی شان بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے ۔ اکبر اویسی کو چاہئے کہ وہ پرانے شہر کی ترقی کیلئے منصوبے پیش کریں اور یہ بتائیں کہ کتنے فنڈز درکار ہیں حکومت فراہم کرے گی ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ایک برے دوست کا ساتھ چھوڑنے کچھ خرچ بھی کرنا پڑے تو کرنا چاہئے اور ایک اچھے دوست کا ساتھ پانے کچھ خرچ بھی کرنا پڑے تو کرنا چاہئے ۔ انہوں نے مجلسی ارکان کی کامیابی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مجلس کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسے بہادر پورہ حلقہ میں کتنے ووٹ سے کامیابی ملی ہے اور نامپلی حلقہ میں اس کی کامیابی کتنے ووٹوں سے ہوئی ہے ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ اکبر الدین اویسی ان کے سیاسی کیرئیر پر انگلی اٹھارہے ہیں جبکہ وہ بھی مجلس کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مجلس کے این بھاسکر راؤ سے کرن کمار ریڈی تک چیف منسٹروں سے تعلقات کس بنیاد پر رہے اور اختلافات کس بنیاد پر رہے ۔ اگر ایوان میں اسپیکر اجازت دیں تو وہ ایک دن اس پر مباحث کرنے بھی تیار ہیں ۔