ملک کے تین سرکردہ اداروں کے ماہرین کی نگرانی میں کام جاری ، رقومات کی منتقلی میں دھوکہ دہی سے بچنا ممکن
حیدرآباد۔27 اپریل(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے محفوظ ڈیجیٹل ادائیگی کو یقینی بنانے اور ہندستانی شہریوں کی مکمل تفصیلات کو یکجا کرنے کیلئے آدھار کے طرز کا نیا کارڈ جاری کرنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور اس کارڈ کی تیاری کے سلسلہ میں ملک کے تین سرکردہ اداروں کے ماہرین کی نگرانی میں کام جاری ہیں۔آدھار کارڈ کے طرز پر نئے کارڈ آدھار2.0 کی تیاری کے سلسلہ میں آئی ڈی آر بی ٹی ‘ آئی آئی آئی ٹی حیدرآباد کے علاوہ آئی آئی ٹی بھلائی کی جانب سے نئے شناختی کارڈ کی تیاری عمل میں لائی جا رہی ہے۔ریزرو بینک آف انڈیا نے انسٹیٹیوٹ فار ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ ان بینکنگ ٹیکنالوجی کے علاوہ ٹریپل آئی ٹی حیدرآباد ‘ آئی آئی ٹی بھلائی کو معاشی امور کو محفوظ طریقہ سے انجام دینے کیلئے نئے کارڈ کی تیاری کی ذمہ داری تفویض کی ہے۔منسٹری آف الکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹکنالوجی کی جانب سے ان تینوں اداروں کو جہاں اس کارڈ کی تیاری کے اقدامات اور امور پر کام کیا جا رہاہے 23 کروڑ کا بجٹ جاری کیا گیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ آدھار کو بطور KYC استعمال کرنے کے سبب ہونے والی مشکلات اور صارفین کو دھوکہ دہی کے خدشات سے محفوظ کرنے کیلئے انتہائی محفوظ ترین کارڈ کی تیاری کو یقینی بنانے کے اقدامات کو یقینی بنایا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ اس نئے کارڈ کی تیاری کے بعد 24X7 صارفین کو بینک کاری نظام سے محفوظ انداز میں جڑے رہنے کی سہولت حاصل رہے گی اور اس کارڈ کو نہ صرف فون کے ذریعہ بلکہ اے ٹی ایم پر بھی استعمال کرنے کی سہولت حاصل رہے گی۔ عہدیداروں کے مطابق حکومت کی جانب سے اس نئے کارڈ کی تیاری کے ذریعہ محفوظ بینک کاری نظام کے علاوہ حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی فلاحی اسکیمات کے استفادہ کنندگان کے بینک کھاتوں میں راست رقومات کی منتقلی کو یقینی بنانے میں مدد حاصل ہوگی اور ان کارڈس کی تیاری کے بعد صارفین و شہریوں کے بینک کھاتوں کی تفصیلات اور ان کے کھاتوں تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت نہیںرہے گی بلکہ اسکیمات کے تحت جو رقومات منتقل کی جانی ہوتی ہیں یا پھر رقمی تبادلہ کرنا ہوتا ہے تو اس کارڈ کی تفصیلات کی بنیاد پر ہی منتقلی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔م