بی جے پی کا احتجاجی مارچ ناکام‘ کئی قائدین و کارکن گرفتار
امراوتی۔25مئی (پریس نوٹ )ریاست آندھرا پردیش میں واقع جناح ٹاور کا نام تبدیل کرنے کے لیے بی جے پی نے احتجاجی مارچ منعقد کرنے کا اعلان کیا تو ریاستی پولیس نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔ چہارشنبہ کوبی جے پی کے مارچ میں شرکت کرنے والے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کی اطلاع ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے بھی متعدد قائدین اور کارکنوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ بی جے پی کی جانب سے گنٹور میں جناح ٹاور سنٹر کے خلاف مارچ سے قبل ہونے والی گرفتاریاں منگل کی شام کو ہوئیں۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ جناح ٹاور کا نام بدل کر اسے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام سے موسوم کیا جائے۔پارٹی کی یوتھ ونگ کی میٹنگ کے بعد ہونے والے مارچ کے شرکا مارچ کرتے ہوئے جناح ٹاور کی جانب جانا چاہتے تھے ،تاہم پولیس نے ان کی کوشش ناکام بناتے ہوئے مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔گزشتہ کئی ماہ سے بی جے پی اور دیگر ہندو تنظیمیں تاریخی جناح ٹاور کا نام بدلنے کی مہم چلا رہے ہیں، لیکن آندھرپردیش کی وائی ایس جگن موہن ریڈی کی حکومت نے اس مطالبے پر زیادہ توجہ نہیں دی ہے۔وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی ریاستی حکومت کو نام کی تبدیلی کا مطالبہ نہ ماننے اور پولیس کارروائی پر ہندو جماعتوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔بی جے پی یووا مورچہ کے ریاستی جنرل سیکریٹری متا ومسی کرشنا نے اپنی ٹویٹ میں ’نو ٹو جناح یس ٹو کلام‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا کہ آندھرا میں مبینہ غداروں سے شاہانہ سلوک، لیکن محب وطنوں سے نہیں۔بی جے پی کے مرکزی جنرل سیکریٹری اورآندھرا پردیش کے شریک انچارج سنیل دیودھر نے پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ اقلیت کو خوش کرنے والے وزیراعلیٰ کی حکومت نے آواز دبا کر اپنا حقیقی رنگ دکھا دیا ہے۔جے پی کے حامیوں نے گرفتاریوں کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرتے ہوئے شکایت کی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں ریاستی حکومتی تشدد کر رہی ہیں لیکن انہیں کوئی فاشسٹ نہیں کہتا۔