شاہنواز قاسم کی محکمہ پولیس میں واپسی ، موظف عہدیدار حصول عہدوں کے لیے سرگرم
حیدرآباد۔4۔جنوری(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود سے جناب شاہنواز قاسم کی اپنے محکمہ کو واپسی کے بعد ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلائے جانے والے 4 ادارہ جات میں اب کوئی سربراہ نہیں ہے اور ان کے محکمہ پولیس کو واپسی کے ساتھ ہی ڈائریکٹر محکمہ اقلیتی بہبود ‘ چیف اکزیکیٹیوآفیسر تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ اور ڈائریکٹر سیکریٹری تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی اور ڈائرکٹر مائیناریٹی اسٹڈی سرکل کے عہدہ مخلوعہ ہو چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے دو ادارہ جات تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی کے علاوہ تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں بھی کوئی سربراہ نہیں ہے لیکن ان دونوں اداروں میں اضافی ذمہ داری رکھنے والے عہدیدار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جناب شاہنواز قاسم کے ان کے محکمہ کو واپسی کے ساتھ ہی تین اقلیتی ادارہ جات کے سربراہ کا عہدہ مخلوعہ ہوچکا ہے ۔ وہ ڈائریکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کے علاوہ سی ای او وقف بورڈ اور ڈائریکٹر سیکریٹری تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی اور ڈائرکٹر اسٹڈی سرکل کی زائد ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے ۔تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر و نائب صدرنشین کے عہدہ پر محترمہ کانتی ویزلی زائد ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں جو کہ تلنگانہ ریاستی کرسچین فینانس کارپوریشن کی سربراہ ہیں۔ اس کے علاوہ جناب محمد شفیع اللہ سیکریٹری ٹمریز تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی کی زائد ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ جناب شاہنواز قاسم کے تبادلہ کے ساتھ ہی مؤظف عہدیداروں کی جانب سے دوبارہ عہدوں کے حصول کے لئے کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے اور کہا جا رہاہے کہ سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم کے تبادلہ کی صورت میں مؤظف عہدیدار دوبارہ ان اقلیتی ادارہ جات میں ذمہ داریوں کے حصول کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور انہیں برسراقتدار جماعت کے بعض قائدین کی حمایت حاصل ہورہی ہے۔ ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلائے جانے والے تمام ادارو ںمیں سربراہ کے تقرر کے سلسلہ میں حکومت کی ناکامی کی صورت میں عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے احکامات حاصل کرنے پر بھی غور کیا جا رہاہے کیونکہ طویل مدت سے محکمہ اقلیتی بہبود کے بیشتر ادارہ ٔ جات کو مخصوص عہدیداروں کی نگرانی میں ہی کئی کئی عہدوں کی زائد ذمہ داریوں کی تفویض کے ذریعہ چلانے کی کوشش کی جا تی رہی ہے جس کے نتیجہ میں گذشتہ 7 برسوں کے دوران محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی بری طرح سے متاثر ہوچکی ہے۔م