ایک عہدیدار کے تحت 6 اہم ادارے، صرف دو عہدیداروں پر انحصار، اقلیتی اسکیمات سے حکومت کی عدم دلچسپی
حیدرآباد۔/11 جنوری،( سیاست نیوز) تلنگانہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی صورتحال دن بہ دن دگرگوں ہوتی جارہی ہے۔ حکومت کے پاس تقرر کیلئے دیگر محکمہ جات میں عہدیدار دستیاب ہیں لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کو حکومت نے اپنی عدم دلچسپی کے ذریعہ ایک لاوارث ادارہ میں تبدیل کردیا ہے۔ گذشتہ کئی ماہ سے محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں میں مستقل عہدیداروں کا تقرر نہیں کیا گیا اور شاہنواز قاسم آئی پی ایس کی خدمات محکمہ پولیس میں واپس کئے جانے کے بعد تو صرف دو ہی عہدیداروں پر سارے محکمہ کا انحصار ہوچکا ہے۔ جس طرح پرنسپل سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم تمام اقلیتی اداروں کے نگرانکار ہوتے ہیں اسی طرح تازہ ترین تبدیلی کے بعد محکمہ میں عملاً دو سکریٹری تیار ہوچکے ہیں۔ شاہنواز قاسم کے محکمہ پولیس میں اہم عہدہ پر تقرر کے بعد 4 عہدے خالی ہوگئے تھے اور حکومت نے ان عہدوں پر نئے عہدیداروں کے تقرر کے بجائے سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی بی شفیع اللہ کو چاروں اداروں کی اضافی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ بی شفیع اللہ ( آئی ایف ایس ) سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی کے علاوہ ایگزیکیٹو آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی کی اضافی ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔ مزید چار عہدوں کے اضافہ کے بعد وہ سکریٹری اقلیتی بہبود کے برابر ہوچکے ہیں۔ بی شفیع اللہ کو ڈائرکٹر اقلیتی بہبود، چیف ایگزیکیٹو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ، سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی اور ڈائرکٹر میناریٹیز اسٹڈی سرکل کی اضافی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس طرح ان کے پاس 6 عہدے ہوگئے ہیں۔ منیجنگ ڈائرکٹراقلیتی فینانس کارپوریشن کے طور پر کانتی ویسلی اضافی ذمہ داری نبھارہی ہیں جو کرسچن میناریٹیز فینانس کارپوریشن کی منیجنگ ڈائرکٹر ہیں۔ تازہ ترین تبدیلیوں کے نتیجہ میں اقلیتی بہبود کے اداروں میں ایک بھی ادارہ پر مستقل عہدیدار نہیں ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش میں 1993-94 میں علحدہ محکمہ اقلیتی بہبود کا قیام عمل میں لایا گیا اور محکمہ کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے جبکہ 6 اداروں پر صرف ایک عہدیدار کو نگرانکار مقرر کیا گیا۔ جس طرح سکریٹری اقلیتی بہبود تمام اداروں کے ذمہ دار ہوتے ہیں اسی طرح بی شفیع اللہ کو ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے علاوہ دیگر اہم اداروں کی ذمہ داری دی گئی۔ ٹمریز کے تحت 204 اقلیتی اقامتی اسکولس اور جونیر کالجس کا انتظام ایک اہم اور مصروف ترین ذمہ داری ہے باوجود اس کے انہیں حج کمیٹی کے ایگزیکیٹو آفیسر کا اضافی عہدہ دیا گیا۔ کسی بھی عہدیدار کیلئے بیک وقت کئی اداروں کے ساتھ انصاف کرنا ممکن نہیں ہے۔ اقامتی اسکولوں اور جونیر کالجس کی کارکردگی پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ایسے میں سکریٹری ٹمریز کو 6 عہدوں کی اضافی ذمہ داری دیتے ہوئے حکومت نے اقلیتوں کی اسکیمات کے سلسلہ میں اپنی عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت کے مشیر اقلیتی امور اور پرنسپل سکریٹری اقلیتی بہبود کے درمیان سرد جنگ کے نتیجہ میں اقلیتی بہبود کی حالت دن بہ دن ابتر ہوتی جارہی ہے۔ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور کو اقلیتی اداروں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے اور مشیر اقلیتی امور اے کے خاں کی بڑھتی مداخلت سے پرنسپل سکریٹری احمد ندیم ناراض ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مشیر اقلیتی امور نے پرنسپل سکریٹری اقلیتی بہبود کے تبادلہ کیلئے چیف منسٹر آفس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ آئی اے ایس عہدیداروں کے جب بھی تبادلے ہوں گے احمد ندیم کا کسی اور محکمہ میں تبادلہ یقینی سمجھا جارہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ تلنگانہ نظم و نسق میں اقلیتی عہدیدار موجود نہ ہوں بلکہ کئی محکمہ جات میں درکار رینک کے مسلم عہدیدار موجود ہیں لیکن ان کی خدمات حاصل کرنے کے بارے میں حکومت سنجیدہ نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مشیر اقلیتی امور کو ایسے عہدیداروں کی تلاش ہے جو ان کی مرضی کے مطابق کام کرسکیں۔ اقلیتی بہبود کے اداروں میں جاری تعطل آخر کب ختم ہوگا اس کا اقلیتوں کو انتظار ہے۔ر