چیف سکریٹری حکومت سے نمائندگی پر عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا تیقن
حیدرآباد۔13۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا رویہ ریاستی حکومت کی بدنامی کا سبب بن چکا ہے اور منتخبہ مسلم نمائندوں کے لئے ناقابل برداشت ہوچکا ہے کیونکہ پرنسپل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کسی سے ملاقات کے لئے آمادہ ہیں اور نہ ہی کسی نمائندہ کو کوئی تفصیلات فراہم کررہے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی کے لئے حکومت میں شامل مسلم قائدین سے زیادہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار ذمہ دار ہیں۔ پرنسپل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود اور ڈائریکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کے رویہ کے خلاف منتخبہ عوامی نمائندوں نے چیف سیکریٹری تلنگانہ مسٹر سومیش کمار سے ملاقات کرتے ہوئے تحریری شکایت کی اور کہا کہ ان عہدیداروں کے رویہ کے سبب حکومت کی بدنامی ہونے لگی ہے اور اقلیتی بہبود کے لئے حکومت کے اقدامات سے اقلیتی طبقہ کے افراد استفادہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چیف سیکریٹری نے محکمہ کو تحریری شکایت اور نمائندگی موصول ہونے کے بعد ساتھ ہی محکمہ اقلیتی بہبود میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کے سلسلہ میں مشاورت کا آغاز کردیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ چیف سیکریٹری نے ملاقات کرنے والے وفد کو اندرون 2یوم کاروائی کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے مذکورہ عہدیداروں کے تبادلوں کے اقدامات کئے جائیں گے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود اداروں کی کارکردگی ٹھپ ہونے کی مسلسل شکایات کے دوران تلنگانہ راشٹر سمیتی سے تعلق رکھنے والے مسلم نمائندہ نے جب پرنسپل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود سے رابطہ قائم کرتے ہوئے انہیں تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے بجٹ اور رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کے سلسلہ میں دریافت کیا تو پرنسپل سیکریٹری نے انہیں جواب دینے کے بجائے استفسار کیا کہ انہیں اس بات کی اطلاع کس نے دی کہ رہنمایانہ خطوط سے متعلق فائل ان کے پاس زیر التواء ہے!بعد ازاں ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندہ نے حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے اس بات کی شکایت کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدارو ںکا رویہ ان کے لئے تکلیف دہ بنتا جا رہا ہے۔ مختلف منتخبہ عوامی نمائندوں کے ہمراہ عہدیداروں کے اس رویہ سے عاجز آچکے نمائندوں نے محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا مطالبہکرتے ہوئے چیف سیکریٹری حکومت سے خواہش کی کہ وہ دونوں عہدیداروں کو فوری ان کے عہدوں سے ہٹاتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود میں متحرک عہدیداروں کے تقرر کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں۔م