فوڈ ڈیلیوری ایپس سے ڈاٹا کا حصول ، آن لائن ادائیگی و وصولی کے ایپس کو تفصیلات فراہم کرنے مکتوبات
حیدرآباد۔14۔مارچ(سیاست نیوز) انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی نے شہر حیدرآباد کی ریستوراں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ماہ رمضان المبار ک کے دوران اشیائے خورد و نوش کی فروخت پر نظر رکھتے ہوئے ریستوراں اور ہوٹلوں کی جانب سے داخل کئے جانے والے انکم ٹیکس ریٹرنس اور جی ایس ٹی ریٹرنس کا جائزہ لیں گے۔ ذرائع کے مطابق جی ایس ٹی اور انکم ٹیکس حکام نے فوڈ ڈیلیوری ایپس کے ڈاٹاکو حاصل کرتے ہوئے ریستوراں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران بیشتر ریستوراں اور ہوٹلوں میں فروخت کی جانے والی اشیائے خورد و نوش کی فروخت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس اضافہ سے متعلق انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈ میں بہت کم آتے ہیں جبکہ ریستوراں اور ہوٹل مالکین کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران ہونے والی فروخت کا ممکنہ حد تک حساب رکھتے ہوئے محصول آمدنی ادا کیا جاتا ہے اور جی ایس ٹی کے معاملہ میں ہر کوئی واقف ہے کیونکہ جو اشیاء تیار کی جاتی ہیں ان میں استعمال ہونے والی اشیاء کی خریدی پر ہی ہوٹل مالکین جی ایس ٹی ادا کرچکے ہوتے ہیں اور ہوٹل پر عائد ہونے والے جی ایس ٹی کی ادائیگی میں بھی کوتاہی نہیں کی جاتی۔ ذرائع کے مطابق سی بی ڈی ٹی عہدیداروں نے فوڈ ڈیلیوری ایپس کے علاوہ آن لائن ادائیگی پر کی جانے والی وصولی کے ایپس سے تفصیلات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں ایپس کے ذمہ داروں کو مکتوبات روانہ کرتے ہوئے ان تفصیلات کی بعجلت ممکنہ فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں سرکردہ ہوٹل مالکین اور اشیائے خورد ونوش کی فروخت کرنے والے اداروں کی تفصیلات وصول کرنے کے بعد ممکن ہے کہ انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی حکام کی جانب سے بڑے پیمانے پر کاروائی کی جائے گی ۔3