محکمہ تعلیم ، صحت اور خاندانی بہبود کے مشکل دور کا آغاز

   

ملازمین کی حاضری کے لیے سیلفی کی شرط ، خانگی ایپ سے نقل و حرکت کا اظہار ، ڈاٹا چوری ہونے کا خطرہ
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔7۔ڈسمبر۔ ریاست تلنگانہ کے محکمہ تعلیم ‘ صحت اورخاندانی بہبود کے مشکل دور کا آغاز ہوچکا ہے اور اب تک جو ملازمین اپنی خدمات کے تئیں غیر سنجیدہ تھے انہیں اب سنجیدگی کے ساتھ اپنی خدمات انجام دینے پڑیں گی۔محکمہ تعلیم بالخصوص سرکاری اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے تدریسی و غیر تدریسی عملہ کے لئے حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا ’’جیو اٹینڈنس سسٹم‘‘ اساتذہ وغیر تدریسی عملہ کے علاوہ محکمہ صحت وخاندانی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے ملازمین کے لئے مشکل صورتحال کا سبب بننے لگا ہے اور حکومت کی جانب سے حاضری کا یہ نیا نظام متعارف کروائے جانے پر اساتذہ برادری میں شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے ۔ ڈائریکٹر محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق اساتذہ وغیر تدریسی عملہ کو اب اس نئے نظام کے تحت حاضری دینی ہوگی اور اس نظام حاضری کے تحت سرکاری اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے عملہ کو ڈیوٹی پر پہنچتے ہی اپنے موبائیل فون میں موجود ایپلیکیشن کے ذریعہ سیلفی لیکر اپ لوڈ کرنی ہوگی اور ڈیوٹی کے اختتام کے بعد روانگی کے وقت بھی انہیں اپنی سیلفی اپ لوڈ کرنی پڑے گی۔ موبائیل کے ذریعہ اس نئے حاضری کے نظام کے سلسلہ میں عہدیداروں کا کہناہے کہ اس نظام حاضری کو روشناس کروانے سے قبل پائیلٹ پراجکٹ کے طور پر ریاست کے مختلف اضلاع میں کامیابی کے ساتھ عمل کیاگیا اور اب اسے شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں روشناس کروایا گیا ہے ۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے مطابق اس نظام حاضری پر عمل آوری کے ذریعہ تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی سنجیدگی میں اضافہ ہوگا اور سرکاری اسکولوں کے معیار تعلیم میں بہتری لانے میں یہ بے انتہا ء معاون ثابت ہوگا اسی لئے ریاستی حکومت کی جانب سے اس ایپ کے ذریعہ حاضری کو منظوری دی گئی ہے۔ ریاستی حکومت کے اس اقدام سے سرکاری محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے ملازمین میں ناراضگی پائی جارہی ہے کیونکہ ملازمین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا نظام حاضری ان کی ذاتی زندگی میں دخل کے مترادف ہے کیونکہ حکومت نے جس ایپ کے ذریعہ حاضری کا ریکارڈ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے وہ ایک خانگی کمپنی کا تیار کردہ ایپ ہے اور اس ایپ کے ذریعہ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے والوں کی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھنے کی گنجائش ہے کیونکہ اس ایپ کو کھولتے ہی ایپ اپنے خود کار نظام کے ذریعہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ موبائیل صارف کس مقام پر ہے اور وقت کیا ہے اس کے علاوہ ایپ کی جانب سے سیلفی اپ لوڈ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جو کہ ذاتی زندگی میں مداخلت کے مترادف ہے ۔ محکمہ تعلیم میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے اس فیصلہ کو قبول کرتے اگر یہ ایپ حکومت کی جانب سے تیار کیا گیا ہوتا لیکن یہ ایپ ایک خانگی آندھرائی کمپنی کا ہے اور اس ایپ میں ڈاٹا محفوظ ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔اساتذہ کے مطابق حکومت کو نظام حاضری میں اگر بہتری لانی ہے تو کوئی اور راستہ اختیار کیا جاسکتا تھا لیکن سیلفی کا حصول مناسب نہیں ہے ۔ ملک بھر کے علاوہ دنیا بھر کے کئی ممالک میں سائبر حملو ں اور ڈاٹا چوری کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں اور ایسی صورت میں سرکاری ملازمین کا ڈاٹا کسی خانگی کمپنی کے حوالہ کیا جانا درست نہیں ہے کیونکہ اگر کسی سائبر حملہ کے سبب یہ ڈاٹا چوری ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ان ملازمین کی تمام تفصیلات اس ایپ میں موجود رہیں گی جو کہ انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور ملازمین کے سرمایہ اور جمع پونجی تک بھی سائبر حملہ آوروں کی رسائی ممکن ہے۔ ڈاٹا پروٹیکشن کے ماہرین کا کہناہے کہ اس طرح کے ایپ جس میں حمل و نقل اور تصاویر اپ لوڈ ہوتی ہیں اور ان ملازمین کی تفصیلات ایپ میں موجود ہوں تو اسے بہ آسانی نشانہ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ ملازمین کی منفرد شناخت کا نمبر ان کے تمام سروس کے علاوہ پی ایف ‘ بینک کھاتوں کے علاوہ دیگر سے مربوط ہوتا ہے اور اس کی حساس تفصیلات کسی خانگی ایپ میں جمع ہونا خطرناک ثابت ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ ‘ ڈاکٹرس‘ نیم طبی عملہ کے علاوہ دیگر کی خدمات کو بہتر بنانا اور عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کئے جانے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن کسی تیسرے فریق کے ذریعہ اس طرح کی کوشش مناسب نہیں ہے اگر محکمہ تعلیم کی جانب سے اس طرح کا کوئی اقدامات کیا جانا ہے تو ایسی صورت میں محکمہ تعلیم اپنے محفوظ ایپ کے ذریعہ یہ تفصیلات استعمال کرسکتا ہے لیکن اب جو فیصلہ کیا گیا ہے اس میں تیسرے فریق کی مداخلت موجود ہے اور اگر ملازمین کا یہ ڈاٹا چوری ہوتا ہے تو ایسی صور ت میں اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی اس بات کی کوئی وضاحت موجود نہیں ہے اور اس سلسلہ میں دریافت کئے جانے پر عہدیدار جواب دینے سے قاصر ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ ان تکنیکی امور کے متعلق واقف نہیں ہیں اسی لئے کچھ نہیں کہہ سکتے۔