محکمہ صحت کے آوٹ سورسنگ ملازمین کو تقررات میں 30 فیصد ویسٹیج دینے کا فیصلہ

   

نئے ڈاکٹرس کی خانگی پراکٹس پر امتناع کی تجویز، آئندہ دو ہفتوں میں نوٹیفکیشن کی اجرائی متوقع

حیدرآباد ۔ 30 اپریل (سیاست نیوز) محکمہ صحت میں تقررات کیلئے اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ ابھی تک کئے گئے تقررات میں کنٹراکٹ پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کو ہی ویسٹیج دیا گیا ہے۔ اب نئے تقررات میں آؤٹ سورسنگ پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کو بھی ویسٹیج دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹرس کی جائیدادوں پر تقررات کیلئے تحریری امتحان نہیں رکھا جارہا ہے۔ انہیں طبی تعلیم میں حاصل کردہ 70 فیصد مارکس کے ساتھ ماباقی 30 فیصد ویسٹیج دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نرسیس اور دوسرے پیرا میڈیکل عملہ کیلئے تحریری امتحان کو 70 فیصد اور ساتھ ہی 30 فیصد ویسٹیج دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ صحت نے تجاویز تیار کیا ہے۔ نئے ڈاکٹرس کیلئے خانگی پراکٹس پر امتناع عائد کرنے کی تجویز تیار کی گئی ہے جس کو حال ہی میں حکومت کو روانہ کیا گیا ہے۔ حکومت سے منظوری حاصل ہوتے ہی اس پر عمل آوری کیلئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے جائیں گے۔ محکمہ صحت کی نئی جائیدادوں پر تقررات کیلئے سرویس رولس میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ماضی میں اسٹاف نرس اور دیگر پیرا میڈیکل کی جائیدادوں پر تقررات کے موقع پر جو قانونی مسائل پیدا ہوئے تھے، اس مرتبہ مسائل سے پاک تقررات کرنے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ تقریباً 20 سال قبل تیار کردہ سرویس رولس ان دنوں کے حالت کے مطابق تھا۔ حالیہ دنوں میں نئے کورسیس اور جائیدادوں میں تبدیلیاں آئی ہیں۔ قدیم قواعد کے مطابق نئے کورسیس کرنے والے نااہل ہونے کے امکانات ہیں۔ تازہ حالت کے مطابق تقررات کو قانونی کشاکش سے پاک بنانے کیلئے خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہیکہ حکومت کی ہدایت کے بعد ہی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ مزید دو ہفتوں میں اعلامیہ جاری ہونے کا امکان ہے۔ن