مخالف اقلیت امیج سے ہندوستانی کمپنیوں کو نقصان : رگھورام

,

   

بین الاقوامی تعلقات بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ، سابق گورنر آر بی آئی کا بیان
ممبئی : ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر راگھو رام راجن نے کہا کہ مخالف اقلیت امیج سے ہندوستانی پراڈکٹ کی مارکٹ اور کمپنیوں کو نقصان ہوگا ۔ علاوہ ازیں بیرونی حکومتوں کو یہ یقین ہوگا کہ ہندوستان قابل اعتماد نہیں رہے گا ۔ ٹائمس نیٹ ورک انڈیا اکنامک کانکلیو میں انہوں نے کہا کہ کسٹمرس جمہوری ملک سے اشیاء خریدنے کے لیے تیار ہیں جو ملک اپنے تمام شہریوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے ۔ راگھو رام راجن نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات بھی اسی منطق پر کام کرتی ہیں ۔ اب حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا حکومت قابل بھروسہ ہے یا اقلیتوں کے ساتھ سلوک کی بنیاد پر ایسا نہیں ہے ۔ اپنے دعوے کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے انہوں نے چین کی مثال پیش کی جس کو ایغور اور تبتیوں کو درپیش مسائل کے باعث وقار کے مسئلہ کا سامنا ہے ۔ الیکشن کمیشن ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ، سنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن اور دیگر جمہوری اداروں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان اداروں کے اختیارات کو کم کرنا ہے ۔ ملک کے جمہوری امیج کے لیے اچھا نہیں ہے ۔ دہلی کے جہانگیر پوری میں بلڈوزر کے ذریعہ مکانات کے انہدام کے علاوہ ملک کی مختلف ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد حکام نے غیر مجاز قبضوں کو برخاست کرنے کی مہم شروع کی ، جس کو کئی سیاسی جماعتوں نے سماج کے ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا ہے ۔ تاہم حکام نے اپوزیشن جماعتوں کے ان دعوؤں کو مسترد کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کو اس وقت زبردست حمایت حاصل ہورہی ہے کیوں کہ صدر زیلنسکی ان نظریات کی مدافعت کررہے ہیں جس پر جمہوری دنیا یقین رکھتی ہے ۔۔