مدراس ہائی کورٹ کا وزیر اعلیٰ وجے کیخلاف مبینہ دھمکی آمیز بیان پر فیصلہ محفوظ

   

اپوزیشن ڈی ایم کے کے رکن اسمبلی جی وی مارکنڈین کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے 3 اگست تک عدالتی تحویل میں بھیجا تھا
چنئی، 28 جولائی (یو این آئی) مدراس ہائی کورٹ نے منگل کو اپوزیشن جماعت ڈی ایم کے کے رکن اسمبلی جی وی مارکنڈین کی گرفتاری کو چیلنج کرنے ، عدالتی ریمانڈ منسوخ کرنے اور ضمانت پر رہائی دینے کی درخواست پر سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں ویلا تھیکولم اسمبلی حلقے سے منتخب ہونے والے مارکنڈین کو توتھوکوڈی ضلع کرائم برانچ پولیس نے وزیر اعلیٰ وجے کے خلاف مبینہ طور پر دھمکی آمیز بیان دینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ یہ بیان کوول پٹی میں ووٹروں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے منعقدہ ڈی ایم کے کے ایک اجلاس کے دوران دیا گیا تھا۔ پولیس نے انہیں ضلع پولیس دفتر میں 12 گھنٹے سے زائد وقت تک پوچھ گچھ کے بعد عدالت میں پیش کیا، جہاں توتھوکوڈی جوڈیشل مجسٹریٹ اول محترمہ سمتی نے انہیں 3 اگست تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ گرفتاری اور عدالتی ریمانڈ کو چیلنج کرتے ہوئے مارکنڈین نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا، کیونکہ توتھوکوڈی کی جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت ان کی ضمانت کی درخواست اور پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست، دونوں مسترد کر چکی تھی۔ جسٹس جی کے ایلانتھرائین کے روبرو سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل پی ولسن نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا (بی این ایس ایس) کے تحت گرفتاری اسی صورت میں کی جا سکتی ہے جب یہ یقین کرنے کی معقول وجہ ہو کہ ملزم دوبارہ جرم کرے گا یا شواہد سے چھیڑ چھاڑ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری کی وجوہات مناسب انداز میں نہیں بتائی گئیں اور شکایت کی صداقت جانچنے کے لیے کوئی ابتدائی تحقیقات بھی نہیں کی گئیں۔ ولسن نے مزید دلیل دی کہ سیاسی تقاریر سے متعلق مقدمہ درج کرنے سے پہلے ریاستی پبلک پراسیکیوٹر کی پیشگی منظوری ضروری تھی، جو اس معاملے میں حاصل نہیں کی گئی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ بیان ایک سیاسی بیان کے جواب میں دیا گیا تھا، اس میں کسی قسم کی بدنیتی شامل نہیں تھی، جبکہ مجسٹریٹ نے مناسب غور و فکر کے بغیر محض رسمی انداز میں ایم ایل اے کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ دوسری جانب سرکاری وکیل آر جان ستیان نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایل اے نے عوامی طور پر یہ دھمکی دی تھی کہ اگر اسمبلی کے دروازے بند کیے گئے تو وہ وزیر اعلیٰ کی “ہڈیاں توڑ دیں گے “، جو ایک سنگین بیان ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس بیان کی ویڈیو موجود ہے ، جس سے جرم کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔
سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ یہ تقریر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے اور اگر گرفتاری نہ کی جاتی تو ایسے جرم کے دوبارہ ہونے کا خدشہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتاری کی وجوہات ایم ایل اے کو باقاعدہ طور پر بتائی گئی تھیں، جس کا انہوں نے اعتراف بھی کیا، جبکہ ان کے اہل خانہ کو بھی اس بارے میں اطلاع دی گئی تھی۔
استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے عدالتی تحویل کا حکم جاری کرنے سے قبل تمام متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لیا تھا، اس لیے ریمانڈ کے حکم میں کوئی قانونی خامی نہیں ہے ۔
دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسٹس ایلانتھرائین نے کہا کہ کئی دلائل ایسے مفروضوں پر مبنی ہیں جن کا ابھی تک کوئی وجود نہیں، اور اس نوعیت کے دلائل عدالت پر غیر ضروری بوجھ ڈالتے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا، تاہم فیصلہ سنانے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی۔