ثبوت ناکافی، گواہوں کی شناخت ناکام، استغاثہ الزام ثابت نہ کرسکا، ایڈیشنل سیشن کورٹ کا فیصلہ
بھوپال،29 جولائی (ایجنسیز) مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون کی چوتھی ایڈیشنل سیشن کورٹ نے 2022 ء کے رام نومی جلوس کے دوران پیش آئے تشدد کے ایک اہم مقدمہ میں نامزد 11 مسلم نوجوانوں کو بری کردیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ ملزمین کے خلاف الزامات کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا اور پیش کردہ شواہد قانونی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ عدالت کے مطابق مقدمہ کے متعدد عینی شاہدین سماعت کے دوران ملزمین کی شناخت نہیں کرسکے، جب کہ ٹسٹ آئیڈینٹیفکیشن پریڈ بھی نہیں کرائی گئی۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ضبط شدہ اشیاء اور فرانزک رپورٹوں سے مبینہ پٹرول بم یا دھماکہ خیز مواد کے استعمال کی واضح توثیق نہیں ہوتی۔ عدالتی فیصلے کے بعد ملزمین کے اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کیا، جب کہ سرکاری وکیل نے کہا کہ فیصلے کی نقل حاصل کرنے کے بعد آئندہ قانونی کارروائی، بشمول اپیل، پر غور کیا جائے گا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ کھرگون تشدد سے متعلق مقدمات میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جارہا ہے اور اس سے تفتیشی عمل، شناختی کارروائی اور شواہد کے معیار کے بارے میں کئی سوالات دوبارہ زیربحث آگئے ہیں۔ اپریل 2022ء میں رام نومی جلوس کے دوران کھرگون میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد تشدد بھڑک اٹھا تھا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا تھا۔ واقعہ کے بعد پولیس نے بڑی تعداد میں مقدمات درج کرتے ہوئے کئی افراد کو گرفتار کیا تھا۔ i/y