اتراکھنڈ، آسام اور گجرات کے بعد مدھیہ پردیش میں بھی متنازعہ قانون کے نفاذ کی تیاری
حیدرآباد۔19 جولائی(سیاست نیوز) ملک کی تین ریاستوں میں یکساں سیول کوڈ کے نام پر تیار کئے گئے قوانین کی منظوری کے بعد اب مدھیہ پردیش کابینہ نے بھی ریاست میں یکساں سیول کوڈ کے قوانین کی منظوری کے لئے بل مدھیہ پردیش اسمبلی میں پیش کرنے کو منظوری دے دی ہے۔ ہندستان میں سب سے پہلے ریاست اتر کھنڈ میں ریاستی سطح پر یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کو یقینی بنایا گیا اس کے بعد آسام اور گجرات میں یکساں سیول کوڈ کو منظوری دیتے ہوئے اس کے نفاذ کا اعلان کیاگیا تھا ۔ مدھیہ پردیش کابینہ کی جانب سے یکساں سیول کوڈ کی منظوری کے لئے بل اسمبلی میں پیش کئے جانے کو منظوری دیئے جانے کے بعد کہا جارہاہے کہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی ان متنازعہ قوانین کی منظوری کے لئے راہیں ہموار کی جانے لگیں گی۔بتایاجاتاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار والی ریاستو ںمیں مدھیہ پردیش کے علاوہ راجستھان میں بھی یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور کہا جارہاہے کہ حکومت راجستھان نے بھی یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے کئے جانے والے دعوے کے مطابق مدھیہ پردیش نے ریاست میں یکساں سیول کوڈ کے مسودہ کی تیاری کے لئے جو کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی تھی وہ سابق جسٹس سپریم کورٹ ‘ جسٹس رنجانا پرکاش دیسائی کی نگرانی میں تشکیل دی گئی تھی اور کمیٹی نے ریاست مدھیہ پردیش کے مختلف اضلاع کا دورہ کرنے کے علاوہ سماج کے مختلف طبقات سے ملاقات اور ان کی رائے حاصل کرنے کے بعد مسودہ تیار کیاہے۔ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے دعوے کے مطابق ریاستی حکومت کو حاصل ہونے والے مسودہ اور سماجی تنظیموں و اداروں کے علاوہ سرکردہ افراد نے جو رائے دی ہے اس میں 80 فیصد مسلم خواتین نے اور 40فیصد مسلم مردوں نے مدھیہ پردیش میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی حمایت کی ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ سماج میں مذہبی تفریق کو ختم کرنے کے لئے اس قانون کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دینے کے علاوہ یہ کہا جار ہاہے کہ یہ قوانین ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘ کے نعرہ کو حقیقت میں تبدیل کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرنے والے ہیں۔3