مذہبی ظلم و ستم کے باعث ہندوستان آنے والے پناہ گزینوں کی شہریت محفوظ :مودی

   

بی جے پی حکومت کی تشکیل کے بعد سی اے اے کے عمل کو تیز کرنے کا بھی وعدہ ۔ ندیہ ضلع میں عوامی جلسہ سے خطاب

کولکاتہ، 23 اپریل (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ مذہبی ظلم و ستم کے باعث ہندوستان آنے والے پناہ گزینوں کی شہریت محفوظ رہے گی اور انہیں اس حوالے سے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ پی ایم مودی نے مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران ندیہ ضلع کے کرشن نگر میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پناہ گزین برادریوں کو شہریت کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی اور خواتین کیلئے متعدد فلاحی اعلانات کیے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد شہریت ترمیمی عمل کو تیز کیا جائے گا تاکہ اہل افراد کو تمام حقوق اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے خاص طور پر متوا اور نام شودر برادریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان برادریوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور حکومت ان کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ میں یہاں ایک وعدہ کرنے آیا ہوں۔ کسی بھی پناہ گزین خاندان کو ترنمول سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ، چاہے وہ متوا خاندان ہو یا نام شودر خاندان۔ جو لوگ مذہبی ظلم و ستم کے باعث ہندوستان آئے ہیں، مودی ان کے ساتھ ہیں۔ ریاست میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد سی اے اے کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ آپ کو وہ تمام دستاویزات اور سہولیات ملیں گی جن کے آپ ایک ہندوستانی شہری کے طور پر حقدار ہیں۔مودی نے خواتین کے مسائل پر حکمراں ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاست میں خواتین کی حفاظت اور بااختیاری کیلئے اقدامات نہیں کیے گئے ۔ انہوں نے خواتین کیلئے فلاحی اسکیموں کے دائرے کو بڑھاکر دس ضمانتوں کا اعلان کیا، جن میں پولیس فورس میں خواتین کی بھرتی میں اضافہ، ماتر شکتی بھروسہ کارڈ کے تحت 36 ہزار روپے کی امداد، خواتین کی تعلیم کیلئے 50 ہزار روپے اور حاملہ خواتین کیلئے 21 ہزار روپے کی مدد شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر بچوں کیلئے 36 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ انہیں مناسب غذائیت مل سکے ۔ پی ایم مودی نے سکنیہ سمردھی یوجنا، مدرا لون، آیوشمان بھارت اور پی ایم آواس یوجنا کے دائرہ کار کو بڑھانے کا بھی وعدہ کیا۔ وزیراعظم مودی نے انتخابی ماحول کو نسبتاً پرامن قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے کردار کی ستائش کی اور کہا کہ کمیشن نے پرتشدد واقعات پر قابو پانے کیلئے موثر انتظامات کئے تھے ۔ مغربی بنگال میں آج پہلے مرحلے میں رائے دہی بھی ہوئی ۔عوام کی کثیر تعداد نے حق راجئے دہی سے استفادہ کیا ۔