مردہ کیڑوں کے اعضا سے جنگجو اور فرضی کردار بنانے والا فنکار

   


برسلز: بلجیم میں حیاتیات کے نوجوان طالبعلم نے اپنی غیرمعمولی صلاحیت سے دنیا کو حیران کردیا۔ وہ مرد کیڑے مکوڑوں کے اعضا کو الگ کرکے ان سے جنگجو کردار اور نت نئی مخلوقات بناتے ہیں۔28 سالہ جوز ہبراکن ایک تخلیق میں 20 سے 30 گھنٹے لگاتے ہیں اور انہیں ’فرینکنسٹائن حشرات‘ کا نام دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دوران وہ اپنے تخیل اور مطالعے کو کام میں لاتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی درازوں میں رکھے لاتعداد حشرات سے ایک نیا جہاں بنارہے ہیں جسے سائنس اور آرٹ کا ایک نیا ملاپ قرار دیا جاسکتا ہے۔تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اب تک انہوں نے حشرات کو نہیں مارا بلکہ مردہ کیڑے مکوڑے جمع کرکے ان سے اپنے شوق کی تسکین کرتے ہیں۔جوز کیڑوں کے باریک اعضا کے بھی ماہر ہیں اور حشریات ان کے لیے جنون کا درجہ رکھتا ہے۔