مرکزی بجٹ میں اقلیتی بہبود کے فنڈز میں 38 فیصد کی کمی: محمد علی شبیر

   

اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی اسکیمات نشانہ، سب کا ساتھ سب کا وکاس نعرہ محض دھوکہ
حیدرآباد۔یکم؍ فروری، ( سیاست نیوز) سابق وزیر محمد علی شبیر نے بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت کے بجٹ میں اقلیتی بہبود کے فنڈز میں 38 فیصد کمی پر سخت تنقید کی۔ بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ 2022-23 میں 5020 کروڑ مختص کئے گئے تھے جبکہ نئے بجٹ میں 2023-24 کیلئے 3097 کروڑ مختص کئے گئے۔ انہوں نے اقلیتوں کی بھلائی کے بجٹ میں کمی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ بی جے پی حکومت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اسے اقلیتوں کی بھلائی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ گذشتہ سال کے مقابلہ بجٹ میں 1922.20 کروڑ کی کٹوتی کی گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن بجٹ میں کمی کے ذریعہ اقلیتوں کو سماجی، تعلیمی اور معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مودی حکومت نے منصوبہ بند طریقہ سے اقلیتوں کی معاشی اور تعلیمی ترقی کی اسکیمات کو نشانہ بنایا ہے۔ پری میٹرک اسکالر شپ کو ختم کردیا گیا جس کے تحت پہلی تا آٹھویں جماعت کے لاکھوں اقلیتی طلبہ متاثر ہوئے ہیں۔ نئی اُڑان اسکیم کو پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات کی تیاری کیلئے لاگو کیا گیا تھا لیکن یہ اسکیم بھی ختم کردی گئی۔ اعلیٰ تعلیم میں حوصلہ افزائی کیلئے مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ کو گذشتہ سال ڈسمبر میں ختم کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2023-24 میں مودی حکومت نے اِسکل ڈیولپمنٹ کے بجٹ میں کمی کی ہے۔ 2022-23 میں 491.91 کروڑ مختص کئے گئے تھے جبکہ نئے بجٹ میں 83 فیصد کی کمی کرتے ہوئے محض64.4 کروڑ مختص کئے گئے۔ اِسکل ڈیولپمنٹ کے بجٹ کو 235.41 کروڑ سے گھٹاکر محض 10 لاکھ کردیاگیا ہے۔ نئی منزل اسکیم کے بجٹ کو 46 کروڑ سے گھٹا کر 10 لاکھ کردیا گیا۔ اِسکل ڈیولپمنٹ اسکیم استاد کے بجٹ کو 47 کروڑ سے گھٹاکر 10 لاکھ کیا گیا۔ لیڈر شپ ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز ویمن کے بجٹ کو 2.5 کروڑ سے گھٹاکر 10 لاکھ کیا گیا ہے۔ نیشنل میناریٹیز ڈیولپمنٹ اینڈ فینانس کارپوریشن کے مساوی حصہ کو 159 کروڑ سے گھٹاکر 61 کروڑ کیا گیا ہے۔ر
مرکزی بجٹ میں حیدرآباد کے ملٹ انسٹی ٹیوٹ کے تعاون کا اعلان
حیدرآباد۔ یکم ۔ فروری( یو این آئی) مرکزی حکومت نے حیدرآباد کے ملٹ انسٹی ٹیوٹ کے سنٹر فار ایکسلنس کے طورپر تعاون کا اعلان کیا ہے ۔مرکزی وزیر فائنانس نرملاسیتارمن نے پارلیمنٹ میں آج بجٹ کی اپنی تقریر میں اس بات کی نشاندہی کی۔ہندوستان، باجرا برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے ۔انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ملیٹس اینڈ ریسرچ (آئی آئی ایم آر) کو سابق میں ڈائرکٹوریٹ آف سورگھم ریسرچ(ڈی ایس آر)اورنیشنل ریسرچ سنٹر فار سورگھم کہا جاتا تھا۔یہ مرکزی ایجنسی ہے جو باجرا/جوار کی تحقیق اور ترقی کے تمام پہلووں پرانڈین کونسل آف اگری کلچرریسرچ(آئی سی اے آر)کی نگرانی میں کام کرتی ہے ۔یہ ادارہ شہرحیدرآباد کے راجندرنگر علاقہ میں ہے ۔جوار اورباجراپر تحقیق کا کام اس ادارہ میں کیاجاتا ہے۔اس ادارہ کا قیام 1958میں عمل میں لایاگیا تھا۔

محمد علی شبیر نے یاد دلایا کہ یو پی اے حکومت نے 2006 میں اقلیتی امور کی علحدہ وزارت قائم کی تھی جس کے بعد سے اقلیتی بہبود کے بجٹ کو 144 کروڑ سے 3531 کروڑ تک پہنچایا گیا۔ بی جے پی حکومت نے ہر سال بجٹ تو منظور کیا لیکن 60 فیصد رقومات بھی خرچ نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ 2022-23 میں 5020 کروڑ مختص کرتے ہوئے کافی تشہیر کی گئی لیکن نظر ثانی شدہ بجٹ میں یہ رقم 2612 کروڑ کی گئی۔ جاریہ سال کا بجٹ 3097 کروڑ 2012-13 میں الاٹ کردہ 3155 کروڑ سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی کمی کے ذریعہ حکومت نے اقلیتوں کے ساتھ کھلی ناانصافی کی ہے جو ناقابل قبول ہے۔ر