مرکزی حکومت سے تلنگانہ میں سینک اسکولس کے قیام کیلئے احکامات کی اجرائی پر زور

   

پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے درکار فنڈس اور دیگر امور پر مرکزی وزراء سے چیف منسٹر و وزراء کی نمائندگی
حیدرآباد۔5۔جنوری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی کوتاہی اور غیر دانشمندانہ فیصلوں کے سبب اب تک ریاست میں منظورہ سینک اسکولوںکا قیام ممکن نہیں ہوپایا ہے علاوہ ازیںان اسکولوں کے قیام کے سلسلہ میں اقدامات بھی نہیں کئے گئے ۔مرکزی حکومت شہرحیدرآباد کی ترقی کیلئے علحدہ فنڈ مختص کرے تاکہ تلنگانہ کے دارالحکومت کی ترقی کے لئے خصوصی فنڈس کے ذریعہ ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔ مرکزی حکومت ریاست میں سینک اسکولوں کے قیام کے متعلق فوری احکامات جاری کرے تاکہ ان اسکولوں کے قیام کی راہ ہموار ہوسکے۔ حکومت کی جانب سے تلنگانہ کو اداشدنی بقایاجات کی اجرائی کے علاوہ مختلف اسکیمات کے تحت منظورہ رقومات جاری کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لئے ریاستوں کو دی جانے والی گرانٹ کا حصہ 1800 کروڑ جو تلنگانہ کو جاری کیا جانا ہے اس کی فوری طور پر اجرائی عمل میں لائی جائے اور 15ویں فینانس کمیشن میں منظورہ رقومات کی اجرائی کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی نے آج کیپٹن اتم کمار ریڈی کے علاوہ دیگر عہدیداروں کے ہمراہ مرکزی وزراء مسٹر راج ناتھ سنگھ ‘ مسٹر پیوش گوئل اور مسز نرملا سیتارمن سے ملاقات کرتے ہوئے مذکورہ مطالبات پر مشتمل یادداشت حوالہ کی ۔چیف منسٹر اپنی ٹیم کے ساتھ دو روزہ مصروف ترین دورۂ دہلی کے بعد حیدرآباد کے لئے واپس ہوچکے ہیں۔ ریاست تلنگانہ کو مرکزی حکومت کی مختلف اسکیمات کے تحت اداشدنی بقایا جات جو کہ 2233 کروڑ54لاکھ ہیں ان کی ادائیگی کے سلسلہ میں مرکزی وزیر فینانس مسز نرملا سیتارمن سے چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی اور کیپٹن این اتم کمار ریڈی نے ملاقات کے دوران پیش کی گئی یادداشت میں یہ بات بتائی اور کہا کہ ریاستی حکومت کو وصول طلب بقایاجات کی فوری اجرائی عمل میں لائی جائے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے مرکزی وزیر فینانس سے ملاقات کے دوران چیف منسٹر نے بتایا کہ تلنگانہ میں جاری پراجکٹس کے لئے 15ویں فینانس کمیشن کی جانب سے منظورہ رقومات کی عدم اجرائی کے سلسلہ میں واقف کروایا اور کہا کہ ریاستی حکومت کی معاشی حالت کو دیکھتے ہوئے مرکز کو فوری طور پر ان رقومات کی اجرائی کے سلسلہ میں اقدامات کرنے چاہئے ۔ انہوں نے پسماندہ علاقوں کو فراہم کی جانے والی گرانٹ جو 1800کروڑ روپئے وصول طلب ہے اس کی اجرائی کے سلسلہ میں بھی اقدامات پر توجہ دینے کی درخواست کی اور کہا کہ حکومت تلنگانہ ریاست میں موجود پسماندہ علاقوں کی ترقی کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنانے کے لئے درکار بجٹ کا انتظار کر رہی ہے۔ مسٹر ریونت ریڈی نے فینانس منسٹر سے خواہش کی کہ وہ تلنگانہ کی ترقی کے لئے درکار بجٹ کی اجرائی کے فوری اقدامات کرتے ہوئے انہیں جاری کروائیں تاکہ ریاست میں جو پراجکٹ زیر التواء ہیں انہیں تیزی کے ساتھ مکمل کیا جاسکے۔ مرکزی وزیر دفاع سے ملاقات کے دوران چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے مہدی پٹنم رعیتو بازار کے پاس زیر تعمیر اسکائی واک کی تکمیل لئے درکار 0.21 ایکڑ محکمہ دفاع کی اراضی حوالہ کرنے کے علاوہ پیراڈائز سرکل سے راجیو راہداری کے لئے 11.3 کیلو میٹر راہداری میں حاصل کی جانے والی 83 ایکڑ اراضی کی حوالگی کے احکامات جاری کرنے کی خواہش کی۔اس کے علاوہ کنڈلا کویا تا آؤٹر رنگ روڈ نئی سڑک کی تعمیر کے لئے درکار 56 ایکڑ محکمہ دفاع کی اراضی حوالہ کرنے کے سلسلہ میں بھی نمائندگی کی گئی۔ ریاست میں سینک اسکولوں کے قیام کے مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومت کی نااہلی کی سزاء ریاست کے عوام کو نہیں دی جانی چاہئے اور نہ ہی ان سے سینک اسکولو ں میں تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم کیا جانا چاہئے ۔ اے ریونت ریڈی اور کیپٹن اتم کمار ریڈی نے اس ملاقات کے دوران کہا کہ گذشتہ 10برسوں کے دوران تلنگانہ کے لئے منظورہ سینک اسکولوں کے قیام کی راہیں ہموار کرنے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ تلنگانہ میں سینک اسکولوں کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے۔ کیپٹن اتم کمار ریڈی نے مرکزی وزیر دفاع کو بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں سابقہ حکومت کی جانب سے سینک اسکولوں کے قیام کے سلسلہ میں عدم دلچسپی کے نتیجہ میں حالت ابتر ہوچکی ہے اسی لئے فوری طور پر تلنگانہ میں سینک اسکولوں کے قیام کے احکام جاری کئے جائیں۔مرکزی وزیر کاروپوریٹ امور مسٹر پیوش گوئل سے ملاقات کے دوران اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت کو ان کی وزارت کے ذریعہ مختلف مدات کے تحت 2000کروڑ روپئے وصول طلب ہیں ان کی اجرائی کے احکامات جاری کرنے کی خواہش کرتے ہوئے انہیں یادداشت حوالہ کی گئی ۔ ریاستی وزراء نے مرکزی وزیر پیوش گوئل کے ہمراہ ہوئی بات چیت کے دوران ریاست تلنگانہ کو وصول طلب رقومات کی اجرائی کے سلسلہ میں نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ معاشی بدحالی کا شکار ہونے لگی ہے اسی لئے فوری طور پر مرکز کی جانب سے جاری کئے جانے والے بقایا جات کی اجرائی کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنایا جانا چاہئے تاکہ ریاست کی بھی تیز رفتار ترقی ممکن ہوسکے۔3