مرکزی وزراء کے بچے بیرونی یونیورسٹیز میں آخر کیوں ؟

   

جوہانا دکشا
نریندر مودی حکومت میں مسابقتی امتحانات کئی مرتبہ تنازعات کا شکار بنے اور مسابقتی امتحانات میں بار بار ہیرا پھیری ، رشوت خوری اور گڑبڑ کے نتیجہ میں امتحانات کو منسوخ تک کرنا پڑا ۔ اپوزیشن لیڈروں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مودی حکومت میں 12برسوں کے دوران مسابقتی یا Competative Exams میں 90 مرتبہ گڑبڑ ہوئی جس سے ہمارے ملک کے تعلیمی معیار کا اندازہ ہوتا ہے ۔ پہلے ہی تعلیمی معیار اور تعلیمی نظام پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں ، خاص طور پر ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے بارے میں نہ صرف سوالات اٹھائے جارہے ہیں بلکہ شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا جارہا ہے ۔ ملک میں اعلیٰ تعلیمی نظام کے معیار کو برقرار رکھنے اور اسے باقاعدہ بنانے میں حکومت کی ناکامیوں کے خلاف کئی ہفتوں سے طلباء ملک کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں ۔ احتجاجی مظاہرین کا مطالبہ ہیکہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں ۔ سوشل میڈیا پر کئی افراد نے پُرزور انداز میں کہا ہیکہ حال ہی میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی بیٹی نیمیشا نے ایک امریکی یونیورسٹی میں داخلہ کیلئے اپنا نام درج کروایا ہے ۔ سو شل میڈیا کے ایک صارف نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین اپنے بچوں کو بیرونی ملکوں کی یونیورسٹیوں میں داخلہ دلارہے ہیں ، انہیں بیرونی ملک بھیج رہے ہیں ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی قائدین میں اپنے بچوں کو بیرونی ملک اعلیٰ و معیاری تعلیم کے حصول کیلئے بھیجنے کی صلاحیت ہے ، وہ وہاں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرسکتے ہیں ۔ اسکرال نے کابینی درجہ کے حامل وزراء کے بچوں سے متعلق سرعام دستیاب انفارمیشن کا جائزہ لیا ، ان وزراء کے جن 27بچوں کی جو انفارمیشن دستیاب ہے ان کی عمریں 18 اور 35 سال کے درمیان ہیں ۔ ان میں سے 15 ایسے ہیں جو بیرونی یونیورسٹیز ڈگری رکھتے ہیں یا فی الوقت بیرونی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں جبکہ ایک نے ہندوستان میں تعلیم حاصل کی جبکہ 5بچوں کے تعلیمی پس منظر کے بارے میں معلومات عدم دستیاب ہیں۔ ان بچوں کی عمرکا تعین اس نکتہ کے پیش نظر کیا گیا کہ 2014 میں ہی نریندر مودی اقتدار میں آئے ۔ مثال کے طور پر ارجن جئے شنکر جو وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کے چھوٹے بیٹے ہیں انہوں نے 2021میں نیویارک یونیورسٹی سے بیچلر آف ارٹس کی ڈگری حاصل کی ۔ دوسری طرف مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتا رامن کی بیٹی وانگ مائی پرکالا نے الینوائے کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے Medill اسکول سے ماسٹر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ وزیر کامرس پیوش گوئل کے دونوں بچوں نے بیرونی ملک کی یونیورسٹی سے ہی انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں حاصل کی ۔ واضح رہے کہ ہمارے ملک کے مرکزی وزراء جس طرح اپنے بچوں کو بیرونی ملکوں کے تعلیمی اداروں سے تعلیم دلارہے ہیں اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے اسے روشن بنانے کیلئے بیرونی یونیورسٹیوں کا انتخاب کررہے ہیں ، انہیں دیکھتے ہوئے دوسرے طلباء بھی بیرونی ملکوں کو ترجیج دینے لگے ہیں ۔ خاص طور پر ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے وسیع تر رجحان کو دیکھتے ہوئے اور حالیہ برسوں میں انٹرنس ٹسٹوں ( داخلہ ٹسٹ ) میں جو بے قاعدگیوں کا ارتکاب ہواہے اسے دیکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ہندوستانی طلبہ بیرونی یونیورسٹیز کا رُخ کررہے ہیں ۔ وہ بیرونی ملک کے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں ۔ بیرونی ملکوں کی یونیورسٹیوں میںداخلے لینے والے اور وہاں تعلیم حاصل کررہے طلبہ کی تعداد میں چند دہوں سے بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔ سال 2001ء میں بیرونی ملکوں کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے کیلئے 2.2ملین طلبہ ہندوستان چھوڑ گئے اور 2011ء تک اس طرح کے طلبہ کی تعداد 4 ملین ہوگئی اور سال 2022 تک بیرونی یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ کی تعداد 6.9 ملین تک پہنچ گئی ۔ بہار کے ایک تعلیمی جہدکار انیل رائے اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہندوستان کے امتحانات سے متعلق سسٹم سے لوگوں کا بھروسہ ختم ہوگیا ہے ، جاب مارکٹ سے بھی اعتبار اُٹھ گیا ہے ۔ ہر سال پیپر لیک کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں ایسے میں کیوں کوئی ہمارے نظام تعلیم پر بھروسہ کرے گا ؟ ۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار ہندوستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرونی ملکوں کو جارہے ہیں ۔ اس کے برعکس ہندوستان آنے والے انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کی تعداد میں حالیہ عرصہ کے دوران کمی آئی ہے ۔ مثال کے طور پر 2000-2001 میں ہندوستان میں تعلیم کیلئے تقریباً 6900 انٹرنیشنل اسٹوڈٹس آئے ۔ سال 2013-14 تک یہ تعداد بڑھ کر 39,517 ہوگئی ۔ رائے کہتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے فنڈس کے بغیر جدوجہد کررہے ہیں ، لائبریریوں ، لیبارٹریز اور ریسرچ کیلئے فنڈس میں مسلسل کٹوتی کی جارہی ہے ایسے میں طلبہ یہاں کے تعلیمی اداروں میں آخر داخلے کیوں لیں گے ؟ کیوں پڑھیں گے ؟ ، وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہندوستان وشواگرو بن رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہیکہ ہمارے ملک میں سائنس و ریسرچ کیلئے حکومت فنڈز دینے تیار نہیں ہے ۔
اسکرال نے مرکزی کابینہ کے کم از کم 30وزراء کے بچوں کی عمر ، تعداد اور تعلیم پس منظر کی ایک ایک عوامی ذرائع سے نشاندہی کی ۔ ان ذرائع میں سرکاری ویب سائٹس ، سوشل میڈیا اکاؤنٹس ، نجی ویب سائٹس ، کارپوریٹ ویب سائٹس ، لنکڈ اِن صفحات اور نیوز رپورٹس شامل ہیں ۔ تین مرکزی وزراء منوہر لال کتھر ، سربانندا نووائی اور چراغ پاسوان غیر شادی شدہ ہیں ۔ چند وزراء کے بچوں کی عمریں کم ہیں مثال کے طور پر کے رام موہن کے دو بچے ہیں اور ان کی عمریں 6سال سے کم ہے ۔ کرن رجیجو کے بھی دو بچے ہنوز اسکول میںہیں جبکہ شیوراج نکم چوہان ، جے پی نڈا ،جیوترادتیہ سندھیا ، کرن راجیجو ( کے بڑے بیٹے) اور گجیندر سنگھ شیخاوت ، بھوپندر یادو جیسے وزراء کے بچے بیرونی ملکوں کی یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں یا تعلیم مکمل کرچکے ہیں ۔