مرکزی گرانٹ کی شکل میں ریاست کو اکٹوبر میں 1453 کروڑ روپئے وصول

   

تمام ذرائع کی آمدنی کے تحت 1,25,989 کروڑ روپئے وصول ، اوپن مارکٹ سے 35,120 کروڑ قرض کا حصول
اکٹوبر تک تلنگانہ حکومت کا خرچ 1,23,799 کروڑ روپئے، کاگ اکٹوبر کی رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد ۔ 23 نومبر (سیاست نیوز) مرکزی گرانٹس اور تعاون کے تحت ریاستی حکومت کو اکٹوبر میں 1452.71 کروڑ روپئے وصول ہوئے۔ جاریہ مالیاتی سال تاحال 3,899.74 کروڑ روپئے وصول ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے مرکزی گرانٹس اور تعاون کی شکل میں 21,636.15 کروڑ روپئے وصول ہونے کا اندازہ لگایا تھا۔ اکٹوبر تک 3,899.74 کروڑ روپئے وصول ہوئے یعنی صرف 18.02 فیصد فنڈز وصول ہوئے۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے ریاست کی آمدنی اور اخراجات پر اکٹوبر کی رپورٹ جاری کی ہے۔ رواں مالیاتی سال (2024-25) کے پہلے تین ماہ (اپریل، مئی، جون) میں مرکزی حکومت نے تلنگانہ کو گرانٹ اور تعاون کے تحت کوئی فنڈز جاری نہیں کیا۔ تاہم جولائی میں 1,880.81 کروڑ اگست میں 566.85 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ ماہ ستمبر میں کوئی فنڈز جاری نہیں کیا۔ اکٹوبر میں 1,452.71 کروڑ روپئے جاری کیا۔ تمام ذرائع کی آمدنی کے تحت ریاست کو اکٹوبر تک 1,25,989.74 کروڑ روپئے وصول ہوئے۔ اس مرتبہ بجٹ میں تمام ذرائع کی آمدنی کے تحت 2,74,057 کروڑ روپئے وصول ہونے کا اندازہ لگایا گیا۔ تاہم 45.97 فیصد آمدنی ہوئی۔ محکمہ مال آمدنی کے تحت 2,21,242,23 کروڑ روپئے وصول ہونے کا اندازہ لگایا گیا۔ تاہم 90,844.45 کروڑ روپئے کی آمدنی وصول ہوئی۔ کیپٹل ریٹرن کے تحت 52,815.41 کروڑ روپئے آمدنی وصول ہونے کا اندازہ لگایا گیا۔ تاہم 35,145.29 کروڑ روپئے وصول ہوئے۔ کیپٹل ریٹرن میں صرف اوپن مارکٹ قرض کے تحت 35,120.91 کروڑ روپئے حاصل کئے گئے۔ حکومت نے جملہ 49,255.41 کروڑ روپئے قرض حاصل کرنے کا اندازہ لگایا تھا۔ اکٹوبر تک 71.30 فیصد قرض حاصل کیا گیا۔ ریونیو آمدنی میں ٹیکس کے تحت 1,64,397.64 کروڑ وصول ہونے کا اندازہ لگایا تھا۔ تاہم 82,135.38 کروڑ روپئے وصول ہوئے اور غیر ٹیکس محصولات کے تحت 35,208.44 کروڑ روپئے وصول ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ تاہم 4809.33 کروڑ روپئے وصول ہوئے۔ جی ایس ٹی کے تحت 58,594.91 کروڑ روپئے وصول ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا لیکن 29,526.14 کروڑ روپئے وصول ہوئے۔ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کے تحت 18,228.82 کروڑ روپئے وصول ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا لیکن 8,359.87 کروڑ روپئے وصول ہوئے سیل ٹیکس کے تحت 33,449.21 کروڑ روپئے وصول ہونے کا اندازہ لگایا تاہم 18,595.66 کروڑ روپئے وصول ہوئے۔ ریاستی ایکسائز ڈیوٹی کے تحت 25,617.53 کروڑ روپئے وصول ہوئے۔ مرکزی ٹیکس حصہ کے طور پر 18,384.19 کروڑ روپئے وصول ہونا تھا تاہم 10,159.63 کروڑ روپئے وصول ہوئے دیگر ٹیکسوں کی صورت میں 10,111.78 کروڑ روپئے وصول ہونا تھا لیکن 4571.52 کروڑ روپئے وصول ہوئے۔ اکٹوبر تک ریاستی حکومت نے تمام اقسام کے اخراجات کے تحت 1,23,799.29 کروڑ روپئے خرچ کئے جو جملہ تخمینہ اخراجات 2,54,431.31 کروڑ کا 48.66 فیصد ہے۔ سرکاری اسکیمات، پروگرامس پر 47,994.81 کروڑ، سود کی ادائیگی کیلئے 15,152.63 کروڑ ، ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگیوں کیلئے 25,141,39 کروڑ ، ریٹائرڈ ایمپلائز کی پنشن کیلئے 10,069.45 کروڑ اور سبسیڈیز کیلئے 7,690.12 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔2