ریاست کا 2 لاکھ 90 ہزار 396 کروڑ کا بجٹ اسمبلی میں پیش ۔ اقلیتی بجٹ 2200 روپئے کردیا گیا ۔ وزیر فینانس کی اسمبلی میں بجٹ تقریر
حیدرآباد۔6 ۔فروری (سیاست نیوز) وزیر فینانس ہریش راؤ نے سال 2023-24کیلئے جملہ 2لاکھ 90ہزار 396 کروڑ روپئے پر مشتمل بجٹ پیش کیا ۔ انہوں نے اپنی بجٹ تقریر میں مرکزی حکومت کی ناانصافیوں پر تنقید اور حکومت تلنگانہ کے اہداف اور ان کی تکمیل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت ‘مرکز کی ناانصافی کے باوجود اپنے ہدف کو حاصل کرکے کئی ریاستوں کیلئے مشعل راہ بنتی جا رہی ہے۔ وزیر فینانس نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں 2013-14 کے دوران فی کس آمدنی 1 لاکھ 12 ہزار 162 تھی جبکہ سال 2022-23 میں فی کس شرح آمدنی 3 لاکھ 17 ہزار 115 روپئے ہوگئی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ تلنگانہ کے شہریوں کی آمدنی قومی شرح آمدنی سے زیادہ ہے جو کہ تلنگانہ کی ترقی کا ثبوت ہے۔ انہو ںنے کہا کہ قومی شرح ترقیات میں تلنگانہ 4.9 فیصد اپنا حصہ ادا کررہا ہے جبکہ قومی شرح آبادی کے اعتبار سے تلنگانہ کی آبادی ملک کی آبادی کا 2.9 فیصد ہے۔ ہریش راؤنے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی حکومت ریاست کے تمام طبقات ‘ مذاہب اور شعبہ حیات میں کلیدی ترقی کو یقینی بنارہی ہے۔وزیر فینانس نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ نے ملک میں سال 2017-18 کے دوران قومی سطح پر اور سال 2021-22 کے دوران جنوبی ہند کی ریاستوں میںشرح ترقی 11.8 فیصد کا نشانہ عبور کرکے تاریخ بنائی ہے۔ انہوں نے ملک میں بعض شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضاء کو مکدر کرنے کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور گنگاجمنی تہذیب کی برقراری کو یقین بنایا گیا ہے۔ وزیر فینانس نے بجٹ میں محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے محض 2200کروڑ کی تخصیص عمل میں لائی ہے لیکن تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سے جاری کئے جانے والے قرضہ جات کیلئے 270 کروڑ کی تخصیص کا تذکرہ بجٹ کی تقریر میں اعلان کیا اس کے علاوہ 20 ہزار اقلیتی خواتین کو سلائی مشین کی فراہمی کی اسکیم کا اعلان کیا۔ انہوںنے بی سی ویلفیر کیلئے 6229 کروڑ کی تخصیص کا اعلان کیا اور بتایا کہ حکومت سے تمام طبقات کی ترقی کو یقینی بنانے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ہریش راؤ نے تلنگانہ میں شروع کی گئی نئی اسکیم ’نیوٹریشنل کٹ ‘ کیلئے سال 2023-24 میں 200 کروڑ کی تخصیص کا اعلان کیا اور کہا کہ اس اسکیم سے زائد از 4لاکھ حاملہ خواتین کو فائدہ ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے ریاست میں نئے تقررات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ آئندہ سال 80 ہزار 39 مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کو مکمل کیا جائے گا جبکہ حکومت سے1 لاکھ 61 ہزار 572جائیدادوں کو منظوری دے کر ان میں 1لاکھ 41 ہزار 735 جائیدادوں پر جون 2014تافروری 2022 تقررات ہوچکے ہیں۔ انہو ںنے نئے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے 1000 کروڑ کی تخصیص کا اعلان کیا ۔ ریاست میں نظم و ضبط کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے وزارت داخلہ کیلئے 9 ہزار 599 کروڑ کی تخصیص کا فیصلہ کیا ہے۔ دلتوں کیلئے اسکیم’’ دلت بندھو‘ کیلئے حکومت سے 17ہزار700 کروڑ روپئے کی تخصیص کا فیصلہ کیاگیا ۔حکومت کی جانب سے وظیفہ پیرانہ سالی ‘ و دیگر وظائف کیلئے 12ہزار کروڑ روپئے کی تخصیص کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ مسٹر ہریش راؤ نے بتایا کہ ان آسرا وظائف اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد 44 لاکھ 12 ہزار 882 تک پہنچ چکی ہے۔مشن بھگیرتا کیلئے 8ہزار33کروڑ 66لاکھ روپئے کی تخصیص کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت نے محکمہ برقی کو جملہ 12727 کروڑ کی تخصیص کا فیصلہ کیا ہے۔ریاست کے تمام اضلاع میں میڈیکل کالجس کے قیام کے منصوبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ جاریہ سال 8 نئے میڈیکل کالجس کا قیام عمل میں لایاجاچکا ہے اور سال 2023 کے دوران حکومت نے نرمل ‘ آصف آباد‘ سرسلہ ‘ بھوپال پلی ‘ جنگاؤں‘ کاماریڈی ‘ کریم نگر ‘ کھمم میں نئے میڈیکل کالجس کے قیام کا منصوبہ تیار کیا ہے انہو ںنے بتایا کہ ریاست میں ایم بی بی ایس نشستوں کی تعداد 2014 میں 850تھی اور اب بڑھ کر 2915 ہوچکی ہے اسی طرح پی جی نشستوں کی تعداد 2014 میں 515 تھی جو کہ سال 2022 میں 1208 تک پہنچ چکی ہے۔انہو ںنے کنٹی ویلگو اسکیم کے علاوہ بستی دواخانوں کے قیام اور ورنگل میں ہیلت سٹی کے علاوہ 2000 بستروں پر مشتمل دواخانہ کی تعمیر کو جاریہ سال مکمل کرلئے جانے کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت نے نمس میں بستروں کی تعداد میں اضافہ کے علاوہ شہر کے چاروں جانب ملٹی اسپیشالیٹی دواخانوں کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ہریش راؤ نے مشن کاکتیہ کیلئے 26 ہزار 885 کروڑ کی تخصیص کا اعلان کیا ۔انہو ںنے ریاست میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے علاوہ فنی تعلیم کے فروغ کے منصوبوں کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت آئندہ مالی سال محکمہ تعلیم کیلئے 19 ہزار 93 کروڑ کا بجٹ فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں موجود جامعات کی ترقی وبنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے علحدہ 500 کروڑ کی تخصیص کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔ م