مسئلہ کشمیر: بڈگام میں حالات نازک کرفیو جیسی صورتحال، بڈگام کی طرف جانے والی سڑکیں بند

,

   

کشمیر انتظامیہ نے جمعہ کی صبح وسطی کشمیر کے قصبہ بڈگام میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کرکے اس سمت جانے والی تمام سڑکیں سیل کردیں۔ شیعہ اکثریتی قصبہ بڈگام میں جمعہ کے روز سے محرم الحرام کے ماتمی جلوس برآمد ہونے کا سلسلہ شروع ہونا تھا۔اس دوران وادی کشمیر جمعہ کو مسلسل 33 ویں دن بھی بند رہی۔

جمعہ کو سری نگر کے پائین شہر میں کرفیو جیسی پابندیاں جبکہ دیگر 9 اضلاع کے قصبہ جات میں لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیاں عائد رہیں۔ باقی حصوں میں دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔ذرائع ابلاغ سے ملی اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے جمعہ کی صبح قصبہ بڈگام کی طرف جانے والی تمام سڑکیں سیل کردیں۔ کسی بھی گاڑی یا فرد کو بڈگام بس اسٹینڈ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ قصبہ میں بھاری تعداد میں فورسز اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔

دراصل قصبہ بڈگام میں جمعہ کے روز سے محرم الحرام کی مناسبت سے ماتمی جلوس برآمد ہونے والے تھے۔ انجمن شرعی شیعان جموں وکشمیر کے مطابق 6 محرم الحرام کو ہر سال زوری گنڈ سے ماتمی جلوس برآمد ہوکر اچھ گام روڑ اور بس اسٹینڈ بڈگام سے ہوتے ہوئے مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ ماتمی جلوس کی برآمدگی کا یہ سلسلہ عاشورہ تک جاری رہتا ہے۔ تاہم پابندیوں کے نفاذ سے معلوم ہوتا ہے کہ انتظامیہ ماتمی جلوسوں کو برآمد ہونے سے روکنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

قصبہ بڈگام میں بیشتر ماتمی جلوس انجمن شرعی شیعان کے زیر اہتمام برآمد ہوتے ہیں۔ اس کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی جو کہ ایک سینئر حریت لیڈر بھی ہیں، 4 اگست سے مسلسل خانہ نظر بند ہیں جس کے باعث وہ تاریخی و مرکزی امام بارگاہ میں تاریخی عشرہ مجالس پڑھنے سے بھی قاصر ہیں۔دریں اثنا وادی کشمیر کی متعدد مساجد اور امام بارگاہوں بالخصوص سری نگر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں مسلسل پانچویں جمعہ کو بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے جمعہ کی صبح سری نگر کے ڈاون ٹاون کا دورہ کیا نے بتایا کہ ڈاون ٹاون میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہیں اور سڑکوں پر جگہ جگہ خاردار تار بچھی ہوئی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق کشمیر کے سبھی دس اضلاع میں جمعہ کو مسلسل 33 ویں روز بھی دکانیں اور دیگر تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے اور سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری بہت کم دیکھی گئی۔مرکزی حکومت کے حالیہ اقدامات جن کے تحت جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 ہٹائی گئی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام والے علاقے بنایا گیا کے بعد سے وادی کشمیر میں معمول کی زندگی معطل ہے۔ ہر طرح کی انٹرنیٹ اور موبائل فون خدمات بدستور منقطع ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کو کچھ جگہوں پر مقامی لوگوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جس دوران فورسز نے پتھرائو کے مرتکب احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے۔ جھڑپوں کے دوران کتنے افراد زخمی ہوئے یہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا۔

انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وادی کی صورتحال تیزی کے ساتھ بہتری کی جانب گامزن ہے تاہم اس کے برعکس سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں بھی سڑکوں سے غائب ہیں۔ ان میں سے کچھ درجن بسوں کو سول سکریٹریٹ ملازمین اور سری نگر کے دو تین اسپتالوں کے عملے کو لانے اور لے جانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔

ایس آر ٹی سی کی کوئی بھی گاڑی عام شہریوں کے لئے دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔وادی بھر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ گزشتہ زائد از ایک ماہ سے معطل ہیں جبکہ بیشتر تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جو تعلیمی ادارے کھولے گئے ہیں ان میں طلباء کی حاضری صفر کے برابر ہے۔ اگرچہ سرکاری دفاتر کھلے ہیں تاہم ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان میں ملازمین کی حاضری بہت کم دیکھی جارہی ہے۔ لوگ بھی دفاتر کا رخ نہیں کرپاتے ہیں۔انتظامیہ کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ وادی میں عائد پابندیوں میں نرمی لانے اور مواصلاتی خدمات کی بحالی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے بیشتر حصوں میں اگلے احکامات تک دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی جاری رہے گی۔قابل ذکر ہے کہ وادی میں کسی بھی علاحدگی پسند یا دوسری تنظیم نے ہڑتال کی کال نہیں دی ہے بلکہ جس ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے وہ غیر اعلانیہ ہے۔

انتظامیہ نے کشمیر میں سبھی علاحدگی پسند قائدین و کارکنوں کو تھانہ یا خانہ نظر بند رکھا ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی کو چھوڑ کر ریاست میں انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کے لیڈران کو سرکاری رہائش گاہوں، اپنے گھروں یا سری نگر کے شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کناروں پر واقع سنٹور ہوٹل میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔وادی کشمیر میں ریل خدمات جمعہ کو مسلسل 33 ویں دن بھی معطل رہی۔ ریلوے ذرائع نے بتایا کہ ریل خدمات سرکاری احکامات پر معطل رکھی گئیں اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد ہی بحال کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کی معطلی سے محکمہ کو قریب ایک کروڑ روپے کا نقصان ہواہے۔