مسابقتی امتحانات، مادری زبان میں لکھنے کی دستوری سہولت

   

فرقہ پرستوں کے گمراہ کن بیانات کیخلاف کارروائی کرنے اقلیتی قائد نلگنڈہ خواجہ غوث محی الدین کا مطالبہ

نلگنڈہ ۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو گروپس کے امتحانات سے دور رکھنے اور ان کو ذہنی انتشار کی کیفیت پیدا کرنے کے غرض سے چند فرقہ وارانہ ذہنیت کے حامل پارٹیاں اور قائدین گمراہ کن بیانات جاری کررہے ہیں حکومت مسلمانوں کو دستور میں فراہم کردہ مراعتوں کے مطابق جاری کردہ اعلامیہ پر سختی سے عمل کرتے ہوئے ایسے قائدین پر کارروائی کرنے کا سابقہ رکن بلدیہ و وزیر اعظم 15 نکاتی پروگرام کے رکن جناب خواجہ غوث محی الدین ہاشم نے اپنے صحافتی بیان میں مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین میں 22 علاقائی زبانوں جس میں مادری زبان بھی شامل ہے کو مسابقتی امتحانات میں لکھنے کی سہولت فراہم کی ہے۔ ریاستی حکومت قانون کے مطابق گروپس کے امتحانات میں اردو زبان میں لکھنے کی سہولت فراہم کی ہے۔ علیحدہ ریاست کے قیام کے بعد تعلیم یافتہ بیروزگاروں کے لئے طویل انتظار کے بعد مخلوعہ جائیدادوں پر بھرتی کے لئے اعلامیہ جاری کیا جس پر بیروزگاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اردو مادری زبان میں بھی امتحانات تحریر کرنے کی سہولت پر بعض فرقہ پرست قائدین کی جانب سے تنقید کرتے ہوئے پرچوں کی جانچ بھی اردو داں افراد ہی کرتے ہوئے جس کی وجہ اردو میں تحریر کرنے والے افراد کو کامیاب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اردو داں امیدواروں کے حوصلے پست کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح ہوتو پھر دیگر زبانوں میں شرکت کرنیوالے بھی وہی افراد ہوں گے۔ انہوں نے اردو داں افراد سے کہا کہ اس سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کریں۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر زور دیا کہ ایسے گمراہ کن بیانات دینے والے قائدین کے خلاف کارروائی کرے اردو داں طبقہ میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کرے۔