ٹی آر ایس دور میں 6 مساجد کا انہدام،کے ٹی آر اور محمود علی کارروائی سے واقف تھے
حیدرآباد۔/3 اگسٹ، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے شمس آباد کی گرین ایوینو کالونی میں مسجد خواجہ محمود کے انہدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کا نقلی سیکولرازم بے نقاب ہوچکا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں ٹی آر ایس حکومت کے دوران 6 مساجد کو شہید کیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس مساجد کی شہادت کے ذریعہ خود کو تلنگانہ آر ایس ایس ثابت کرچکی ہے اور اسے مساجد کی شہادت کے بارے میں عوامی ناراضگی کا کوئی خوف نہیں ہے۔ سیکولرازم کے دعوے کرنے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا حقیقی چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی حکومت میں کوئی فرق نہیں ہے دونوں مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں سڑکوں کی توسیع کے نام پر 3 مساجد کو شہید کیا گیا جبکہ جولائی 2020 میں نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کیلئے 2 مساجد شہید کی گئیں۔ شمس آباد کی مسجد خواجہ محمود چھٹویں مسجد ہے جسے غیر قانونی طور پر شہید کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر مساجد کی شہادت کے ذریعہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔ ہم عبادت گاہوں پر حملہ کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں مساجد کی موجودہ مقامات پر دوبارہ تعمیر کا وعدہ کیا گیا لیکن کوئی بھی مسجد تعمیر نہیں کی گئی۔ عنبر پیٹ کی مسجد یکخانہ مئی 2019 میں شہید کی گئی تھی اور آج تک تعمیر کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ چیف منسٹر اور وزیر داخلہ کے تیقنات کے باوجود سکریٹریٹ کی مساجد حقیقی مقام سے ہٹ کر ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ کو مسجد خواجہ محمود کے انہدام کی پہلے سے اطلاع تھی اور ان کے محکمہ نے یہ کارروائی انجام دی۔ وزیر داخلہ محمود علی بھی انہدام سے واقف تھے اور پولیس نے عہدیداروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزراء کی منظوری اور اطلاع کے بغیر اس قدر بڑی کارروائی ممکن نہیں ہے۔ صدر مجلس اسد اویسی کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ مسجد کی شہادت پر اسد اویسی نے احتجاج میں حصہ نہیں لیا۔ دراصل صدر مجلس اور چیف منسٹر کے سی آر کے درمیان خفیہ معاہدہ ہوچکا ہے۔ مجلسی قیادت مساجد کے مسئلہ پر سابق میں بھی مفاہمت کرچکی ہے۔ محمد علی شبیر نے مسجد خواجہ محمود کی غیر قانونی شہادت پر وزیر داخلہ محمود علی سے استعفی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مساجد کی شہادت پر چیف منسٹر سے خاموشی توڑنے اور عوام سے معذرت خواہی کرنے کا مطالبہ کیا۔ر