بین الاقوامی سلامتی بھی اِسی حکمت عملی سے مشروط : رمیزالاکبروف
نیویارک : اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس کے افغانستان کے لئے نمائندہ خصوصی رمیز الاکبروف نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری اور طالبان کے درمیان “ڈائیلاگ اور ربط” نہ صرف افغانوں کے مفاد میں ہے بلکہ علاقائی و بین الاقوامی سلامتی میں پیش رفت کا بھی واحد راستہ ہے۔امریکہ کے شہر نیو یارک میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی افغانستان سے متعلق نشست سے خطاب میں الاکبروف نے طالبان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ “ہم ابھی بھی عملاً فعال حکام کے ساتھ ‘ڈائیلاگ اور مستقل رابطہ’ حکمت عملی پر کاربند ہیں اور اس حکمت عملی کو افغانوں کے لئے بھی اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی میں پیش رفت کے لئے بھی واحد راستہ سمجھتے ہیں”۔االاکبروف نے کہا ہے کہ “ہم ،باہمی تعلقات سے متعلق پیش بینی میں اضافے کی خاطر، آئندہ ماہ سیاسی مشاورت میں اور عملاً فعال حکام کے ساتھ ربط میں زیادہ طویل المدت اضافے کا ہدف رکھتے ہیں”۔انہوں نے کہا ہے کہ “اگرچہ سیاسی، انسانی اور نسوانی حقوق کے بارے میں بین الاقوامی برادری اور طالبان کے درمیان دْوری پائی جاتی ہے لیکن، افغان عوام کی روزمرّہ زندگی میں بہتری کی خاطر، انسدادِ منشیات اور بارودی سرنگوں جیسے مشترکہ اندیشوں سے متعلقہ معاملات میں تعاون کیا جا سکتا ہے اور ان مسائل کے حل میں پیش رفت کی جا سکتی ہے”۔انہوں نے کہا ہے کہ”درپیش مشکلات نہایت صبر کی متقاضی ہیں لیکن ہم برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ بہتر زندگی افغان عوام کا حق ہے اور ہمارا یقین ہے کہ افغان عوام کے اور بین الاقوامی برادری کے مفاد کے لئے پیش رفت کا واحد راستہ یہی ہے”۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس کے افغانستان کے لئے نمائندہ خصوصی رمیز الاکبروف نے ماہِ اگست میں افغان اقتصادیات میں 30 سے 40 فیصد سکڑاو کی طرف توجہ مبذول کروائی اور کہا ہے کہ افغان کنبوں کا 82 فیصد اس وقت قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور 2022 کے اواخر تک غربت کی شرح 97 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں مہنگائی کیخلاف احتجاج بڑھتا ہی رہے گا
اسلام آباد ؍ ہرارے : اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی قیمتوں، پیٹرول کے مہنگا ہونے اور تنخواہوں کے نہ بڑھنے کے باعث پوری دنیا میں لوگ متاثر ہوئے ہیں اور مہنگائی کے خلاف احتجاج اور کارکنوں کی ہڑتال کی لہر آئی ہے۔خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صرف رواں ہفتے کے دوران پاکستان میں اپوزیشن، زمبابوے میں نرسوں، بیلجیئم میں یونین ورکرز، برطانیہ میں ریلوے ملازمین، ایکواڈور میں قدیم مقامی باشندوں، امریکہ میں سینکڑوں پائلٹ اور یورپین ایئرلائنز کے بعض کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔