’’مسجدِ جن‘‘ میں نصف صدی بعد نمازوں کا اہتمام

   

قابضین سے مسجد کو آزادی سے مقامی افرادمیں مسرت کی لہر
پٹنہ ۔ 27 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام)پٹنہ کے مسجدِ جن میں پانچ دہائی بعد نماز پڑھی جائیگی۔ خورشید حسنین وقف اسٹیٹ کوشیعہ وقف بورڈ نے قبضہ سے آزاد کرایا ہے وہیں بند پڑی مسجد جن کوپھرسے نمازکے لئے تیارکیاگیا ہے۔ باقاعدہ یہاں امام بھی بحال کیاگیا ہے جس کی تنخواہ شیعہ وقف بورڈ کی جانب سے ادا کی جائیگی۔ اس مسجد میں کب سے نماز نہیں ہورہی ہے اس کی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق آزادی کے قبل یہاں نماز ہوا کرتی تھی آزادی کے بعد بھی مسجد آباد تھی لیکن قریب 50 سالوں سے یہاں کبھی نماز نہیں پڑھی گئی۔ سروے نمبر 184 خورشید وقف اسٹیٹ زمین مافیاؤں کے نشانہ پرآیا اور قبضہ شروع ہوگیا۔58 کنٹھہ پرمشتمل زمین کو شیعہ وقف بورڈ نے حاصل کرلیاہے۔وقف اسٹیٹ میں واقع مسجد کو بھی دوبارہ آزدکرنیکااعلان کیاگیاہے۔مسجد پرقبضہ کرنے والے بھی مسلمان ہی تھے، شیعہ وقف بورڈ نے مسجد کو عام لوگوں کے حوالے کردیا ہے۔مسجد کا نام مسجدِ جن ہے، پٹنہ میں یہ جنّاتی مسجد سے مشہور ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ مسجد جنوں کی ہے اور جنّات یہاں نماز پڑھتے ہیں۔ یہ بات کتنی سچ ہے، معلوم نہیں لیکن قبضہ کرنے والوں سے مسجد کو آزاد کراکرنماز کی پہل کرنے سے مقامی لوگوں میں خوشی کا ماحول ہے۔ مسجد کے پاس تک جانے والی سڑک کی مرمت کی جارہی ہے۔ یہ مسجد پٹنہ کے گاندھی سیتو کے پاس دھنکی موڑ پر واقع ہے۔ شیعہ وقف بورڈ نے بغیر کسی مسلکی اختلاف کے سبھی لوگوں سے مسجد میں نماز پڑھنے کی اپیل کیا ہے۔