چینائی ، 24 مئی (ایجنسیز) فلم ایکٹر جئے، جنہیں کبھی تمل سنیما کی اگلی بڑی امید سمجھا جاتا تھا، انہوں نے حالیہ دنوں میں اپنے کریئر کے بجائے ذاتی اور روحانی زندگی سے متعلق انکشافات کی وجہ سے دوبارہ توجہ حاصل کی ہے۔ اداکار نے ایک نئے انٹرویو میں اسلام قبول کرنے کے اپنے فیصلے پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں مساجد میں ایسی برابری، سکون اور احترام ملا جس نے ان کی زندگی کا نظریہ بدل دیا۔ جئے نے 2002ء میں ’’بھگوتی‘‘ کے ذریعے فلمی سفر کا آغاز کیا تھا، جس میں انہوں نے تمل ناڈو کے موجودہ وزیر اعلیٰ وجے کے چھوٹے بھائی کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد وہ ’’چنئی 600028‘‘، ’’سبرامنیاپورم‘‘، ’’گوا‘‘ اور اناگیم اپوتم‘‘ جیسی فلموں میں نمایاں اداکاری کرتے نظر آئے۔ اگرچہ ان کے ابتدائی کریئر کو کافی امید افزا سمجھا گیا، لیکن بعد کے برسوں میں ان کی فلموں کی ناکامی اور غیر مستقل انتخاب کے باعث ان کا گراف نیچے چلا گیا۔ اسی دوران ان کے مذہب تبدیل کرنے سے متعلق افواہیں بھی سامنے آئیں، جنہیں ابتدا میں انہوں نے مسترد کیا، مگر 2019ء میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ کئی برسوں سے اسلام پر عمل کر رہے ہیں۔ اب ایک تازہ انٹرویو میں جئے نے بتایا کہ انہوں نے 2011ء میں اسلام کی پیروی شروع کی تھی اور یہ فیصلہ محض روحانی سکون اور ذاتی تجربات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے سبری مالا کے لیے مالا پہنی، پھر جیسس مالا بھی پہنی اور مختلف مذاہب کی عبادات کو اپنانے کی کوشش کی۔ میں سمجھتا تھا کہ سب راستے اچھے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ بعض مندروں میں کچھ ایسے تجربات ہوئے جنہوں نے مجھے اندر سے مایوس کر دیا۔‘‘ اداکار نے وضاحت کی کہ وہ ایک مرتبہ مسجد گئے جہاں انہیں پہلی بار حقیقی برابری کا احساس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے دیکھا کہ سب لوگ ایک قطار میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ سب جانتے تھے کہ میں ایک اداکار ہوں، لیکن مسجد کے اندر کسی نے مجھ سے بات نہیں کی۔ باہر آنے کے بعد سب نے نہایت شائستگی سے گفتگو کی۔ کسی نے تصویر لینے کی کوشش نہیں کی۔ تب میں نے محسوس کیا کہ یہاں سب برابر ہیں۔‘‘ جئے کے مطابق، مسجد کے ماحول نے انہیں روحانی سکون دیا اور انہیں پہلی بار محسوس ہوا کہ شہرت، طاقت یا دولت وہاں کوئی معنی نہیں رکھتی۔انہوں نے کہا کہ ’’وہاں صرف خدا سب سے بڑا ہے۔ کوئی آپ کو دھکا نہیں دیتا، کوئی جلدی نہیں کرواتا۔ آپ جتنا چاہیں عبادت کر سکتے ہیں۔ یہ میرے لیے بالکل نیا تجربہ تھا۔‘‘