مسجد نوری شمس آباد سے متصل ملگیات و باونڈری وال کے انہدام کے خلاف کارروائی پر زور

   

چیرمین تلنگانہ وقف بورڈ محمد مسیح اللہ خاں سے ترجمان ایم بی ٹی امجد اللہ خاں کی نمائندگی
حیدرآباد۔28جولائی (سیاست نیوز) ترجمان مجلس بچاؤ تحریک جناب امجد اللہ خان خالد نے صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ایک یادداشت حوالہ کی اور مسجد نوری شمس آباد سے متصل ملگیات اور باؤنڈری وال کے انہدام کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مجلس بچاؤ تحریک کی جانب سے کی گئی شکایت میں صدرنشین وقف بورڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان لوگوں کے خلاف کاروائی کو یقینی بنائیں جن لوگوں نے مسجد نوری کی ملگیات کے انہدام پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے ترجمان تحریک کو وقف بورڈ کی جانب سے کی جانے والی کاروائی سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ اس انہدامی کاروائی کی رپورٹ طلب کرچکا ہے اور عہدیدارو ںکو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد کاروائی شروع کریں۔جناب امجد اللہ خان نے وقف بورڈ کو حوالہ کئے گئے مکتوب میں بتایا کہ مسجد نوری کے انہدام کے سلسلہ میں انہیں جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق یہ کہا جا رہاہے کہ نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کی اس کاروائی میں بعض ذمہ دار عہدیدار ملوث ہیں ۔انہو ںنے وقف بورڈ سے اپیل کی کہ وہ ان تمام افراد کے خلاف کاروائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں جن لوگوں نے مسجد کی دیوار اور ملگیات کے انہدام میں آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہو ںنے متعلقہ مسجد کے ذمہ داروں کے رول کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ ترجمان تحریک وسابق کارپوریٹر نے بتایا کہ تشکیل تلنگانہ سے قبل سے ہی اس مسجد کو سڑک کی توسیع کے نام پر حاصل کرنے کی کوشش کی جار ہی تھی لیکن انہوں نے اس مسجد کے تحفظ کے لئے مسلسل نمائندگیاں کی ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کی جانب سے کی جانے والی اس کاروائی میں ملوث تمام افراد کے خلاف مقدمات درج کروائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ وقف بورڈ کی جانب سے مسجد کے تحفظ کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے باوجود ذمہ داروں کی ملی بھگت کے سبب یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے انہیں تیقن دیا کہ وہ اس سلسلہ میں نیشنل ہائی وے کی توسیع کے نام پر کی جانے والی اس کوشش پر آمادگی ظاہر کرنے والوں کے خلاف کاروائی کو یقینی بنائیں گے ۔م