اعظم گڑھ، 27 جون (یو این آئی) سماجوادی پارٹی صدر اکھلیش یادو نے آج کہا کہ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے ایودھیا کے سب سے زیادہ دورہ کرنے کا ریکارڈ تو بنا لیا، لیکن ان کی انٹیلی جنس اتنی کمزور ہے کہ انہیں رام مندر میں چوری کی بھنک تک نہیں ملی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے رام مندر میں مبینہ چندہ اور دان کی چوری، ریاست میں بڑھتی بدعنوانی، صحت کی ناقص خدمات، امن و امان کی ابتر صورتحال، پنچایت انتخابات میں تاخیر اور جمہوری اداروں کے طریقہ کار جیسے کئی مسائل پر حکومت کو گھیرا اور کہا کہ عوام 2027 میں تبدیلی کا فیصلہ کرے گی۔ چیف منسٹر کے ایودھیا دوروں پر طنز کرتے ہوئے اکھلیش نے کہا کہ اگر رام مندر جیسی جگہ پر ایسے حالات ہیں، تو ریاست کے تھانوں، تحصیلوں اور سرکاری دواخانوں کے نظام کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں بدعنوانی عروج پر ہے ۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو دوائیں نہیں مل رہی ہیں اور تھانوں نیز تحصیلوں میں عوام کو انصاف کیلئے بھٹکنا پڑ رہا ہے ۔ حکومت بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے اور عوام اس سے جواب مانگ رہی ہے ۔ رام مندر میں عقیدت مندوں کے عطیہ کیے گئے سونے ، چاندی، ہیرے جواہرات اور دیگر قیمتی سامان کے غائب ہونے پر اکھلیش نے کہا کہ یہ کسی ایک شخص کی ذمہ داری کا مسئلہ نہیں ، بلکہ پورے نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مجبوری میں ایس آئی ٹی تشکیل دینی پڑی، لیکن ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جانچ رپورٹ کسے سونپی گئی اور بڑے ذمہ دار لوگوں تک کارروائی کیوں نہیں پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے ملک اور دنیا بھر میں سناتن دھرم اور ہندوستانی ثقافت میں عقیدہ رکھنے والے کروڑوں لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عقیدت مندوں کی آستھا ) کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو شری رام کبھی معاف نہیں کریں گے ۔ انتخابی مسائل پر ایس پی صدر نے کہا کہ حکومت ون نیشن، ون الیکشن کی بات کرتی ہے ، لیکن وقت پر پنچایت انتخابات کرانے میں ناکام ہے ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت ایک ساتھ انتخابات کرانے کا دعویٰ کرتی ہے ، تو مقامی اداروں اور پنچایت کے انتخابات میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے ؟۔