معاشی استحکام پر زور ، حقوق کے لیے جدوجہد کی ضرورت ، جناب عامر علی خاں رکن قانون ساز کونسل کا خطاب
حیدرآباد۔17فبروری(سیاست نیوز) رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حالات میںتبدیلی کے لئے معاشی استحکام کو اہم قراردیا ۔ انہوں نے کہاکہ پہلے معاشی طور پر مستحکم ہوجائیںپھر سیاسی اور سماجی سطحوں پر مقابلے میںآسانی ہوگی ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ انصاف کا حصول بھی اسی وقت ممکن ہے جب اقلیتیں معاشی طور پر مضبوط ہوجائیں گی۔اسوسیشن فار پروٹوکشن آف سیول رائٹس( اے پی سی آر) حیدرآباد چیاپٹر کے زیر اہتمام ’’بدلتی جمہوریت میں انصاف کا احساس دلانے ‘‘ کے عنوان پر منعقدہ ایک سمینار سے وہ مخاطب تھے۔قومی کنونیر اے پی سی آر ندیم خان‘ ایڈوکیٹ تلنگانہ ہائی کورٹ بی بی راگھوناتھ‘سابق ڈین عثمانیہ لاء کالج گالی ونودکمار‘ سماجی جہدکارہ جسوین جیرات اور کے روی نے بھی خطاب کیا۔ کاروائی انیس احمد نے چلائی جبکہ شکریہ کے فرائض ماریہ تبسم عارف الدین نے ادا کئے ۔اپنی تقریر کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے جناب عامر علی خان نے کہاکہ سال2014کے بعد سے ملک کے حالات میںبڑے پیمانے پر تبدیلی آئی ہے ۔ صاحب اقتدار شخصی مفادات کے بناء پر اقلیتی اداروں کے مسائل کے حل کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ جب اے ایم یو کے مسائل وزیراعظم کے سامنے پیش کئے گئے تو انہوں نے اے ایم یو مدعو کرنے پر سارے مسائل حل کرنے کاوعدہ کیا تھا۔ انہو ںنے کہاکہ جمہوریت کا مذاق بنادیا گیا ہے ۔ انہوں نے اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ملک میں اقلیتوں اور دلتوں پر حملوں اور مظالم کے واقعات میں 76فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے برعکس مقدمات میں بھی دلتوں او رمسلمانوں کو پھنسانے کے واقعات میں بھی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتاجارہا ہے ۔ مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو یوٹیوب ‘ فیس بک او ر دیگر سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس پر نشانہ بنایاجارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ دلتوں پر پانچ ہزار سالوں سے مظالم کی بات کہی جاتی ہے اور دلت طبقات کو تحفظات کے زمرے میںشامل کرنے کے بعد ان کی حالت میں بڑے پیمانے پر سدھار آیا ہے ۔ مگر اب مسلمان مسلسل نشانے پر ہیں۔مسلمانوں پر ظلم وزیادتیوں کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے اس اضافہ کی وجہہ مسلم قیادت کا فقدان قراردیا ۔ انہوں نے کہاکہ کسی نہ کسی کو آگے بڑھ کر قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے ہوگی ۔ اپنے حقوق کے لئے مسلمانوں کو جدوجہد کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہر معاملے میں مسلمان دیر سے بیدار ہوتے ہیں۔مسلمان اگر بدلتے حالات کا اندازہ قبل ازوقت لگالیتے تو جس صورت حال کا سامنا فی الوقت مسلمان کررہے ہیں شائد وہ ایسی صورت حال کا سامنا نہیں کرتے ۔حالانکہ مسلمانوں نے تاخیرسے ہی صحیح جس تحریک میںحصہ لیا ‘ وہ تحریک کامیاب ہوئی۔انہوںنے تلنگانہ میںچار فیصد تحفظات اور علیحدہ ریاست تلنگانہ کی جدوجہد کو اس کے لئے مثال کے طور پر بھی پیش کیا۔انہو ںنے تعجب خیز انداز میں کہا کہ متحدہ ریاست آندھر اپردیش میں 42فیصد مسلم سرکاری ملازمتوں میں تھے مگر گھٹ کر وہ اب دو فیصد سے بھی کم ہوگئے ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ انصاف کے احساس اس وقت پروان چڑھ سکتا ہے مسلمانوں کے حالات میںکم ازکم معاشی سدھار لانے کاکام کیاجائے ۔ معاشی طور پر مستحکم ہوجاتے ہیں تو پھر دیگر شعبوں میں بھی مسلمانوں کی ترقی یقینی ہوجائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ 1992میںبابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمانوں میںبڑی حد تک شعور بیدا ر ہوا ۔ تعلیم کی طرف مسلمانوں کی توجہہ مبذول ہوئی ۔ پھر گجرات فسادات نے مسلمانوں کی ملی حمیت کو جھنجھوڑا ۔ جناب عامرعلی خان نے مسلمانوں پر مظالم او رجان لیوا حملوں کے سدباب کے لئے لائف انشورنس اور ہیلتھ انشورنس کی پالیسیوں پر توجہہ مرکوز کرنے کا مسلمانوں کو مشورہ دیا۔ انہوں نے ذہنی طور پر مسلمانوں کو ہر محاذ پر تیار رہنے کی ضرورت پر بھی زوردیا ۔ انہوں نے کہاکہ جس قسم کا منفی پروپگنڈہ میڈیا اور سوشیل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف چلایاجارہاہے اس کا جواب دینے کی قابلیت ہر نوجوان میںہونی چاہئے ۔ انہوں نے حیدرآباد کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ ادارے سیاست کی جانب سے جیل میں جب افطار کرائی جاتی تھی اُس وقت ایک نوجوان سے جیل میںملاقات ہوئی جب محض پندرہ ہزار روپئے کی ضمانت ادا نہیںہونے کی وجہہ سے جیل سے باہرنہیں آرہا تھا۔ انہوں نے کہاکہ جب اُس نوجوان کی ادارے سیاست نے مدد کی اُس کو ضمانت مل گئی مگر پولیس کی ہراسانی کا سلسلہ بدستور جاری رہا اور حیدرآباد میںکہیں پھر بھی چوری کا واقعہ پیش آتا تو اس نوجوان کو پولیس اسٹیشن طلب کیاجاتا او رپولیس اسٹیشن میںبند کردیاجاتا تھا۔ تنگ آکر پہلے اس نے محلہ چھوڑا پھر دوسری ریاست میں جاکر رہنے پر مجبور ہوگیا۔ انہو ں نے کہاکہ غیر سماجی عناصر بھی ہیں تو انہیں سماجی دھارے میںآنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ندیم خان خطاب کرتے ہوئے جمہوریت انسانی وقار ہے ۔ مگر جمہوریت برائے نام ہے ۔ ملک کے حالات خراب ہیں۔ محض ایک سال میں پچاس ہزارسے زائد معاملات دلتوں کے ساتھ پیش آئے ہیں ۔ میرا تعلق ریاست اترپردیش ہے جہاں پر2017میں بی جے پی کی زیر قیادت یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے اور وہاں پر 37ہزار سے زائد عصمت ریزی کے مقدمات درج ہوئے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کا کارنامہ یہی ہے انہو ںنے 12800انکاونٹرس کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی ہر وہ ریاست جہاں پر بی جے پی اقتدار میںہے مسلمانوں اوردیگر پسماندہ طبقات کے ساتھ مظالم کاسلسلہ بدستور جاری ہے۔آسام میں19لاکھ سے زائد لوگوں کو شہریت سے محروم کردیاگیا۔ جن میںاکثریت یومیہ اجرت پر کام کرنے اوراپنے گھر والوں کو پیٹ پلانے والوں کی ہے ۔