مسلمانوں کا دشمن کون ؟

   

حیدرآباد9جون(سیاست نیوز) مسلمانوںکو نقصان پہنچانے ان کے اداروں اور اسکیمات کو بجٹ کی عدم اجرائی انہیں مزید پسماندہ بنانے کافی ہے ۔ بجٹ کی عدم اجرائی سے انہیں نہ صرف تعلیمی بلکہ معاشی طور پر بھی منظم انداز میں پسماندہ بنایا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ کے مسلمانو ںکیلئے ٹی آر ایس بی جے پی سے زیادہ مضر اور تکلیف دہ ثابت ہونے لگی ہے جو محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کی عدم اجرائی کے ذریعہ تعلیمی و معاشی طور پر پسماندہ کررہی ہے۔ بجٹ اجرائی میں کوتاہی حکومت کی مسلمانوں سے بے اعتنائی کا ثبوت ہے۔ حکومت نے بجٹ 2022-23 میں محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے جملہ 1724.69 کروڑ مختص کئے اور اسمبلی میں بجٹ کومنظوری دی گئی تھی لیکن تین ماہ گذرنے کے باوجود محض 145.65 کروڑ کی اجرائی عمل میں لائی گئی جس میں محکمہ اقلیتی بہبود ملازمین کی تنخواہیں شامل ہیں۔ بجٹ کے سلسلہ میں کئی برسوں سے شکایات مل رہی ہیں کہ مجموعی بجٹ کا 50 فیصد حصہ بھی سال بھر میں استعمال نہیں کیا جا رہا اور اداروں کی حالت ابتر ہوچکی ہے ۔جاریہ مالی سال میں محکمہ اقلیتی بہبود کے مختلف محکمہ جات کی جانب سے ماہ جون کے آغاز تک 529کروڑ 9 لاکھ کے بلز داخل کئے گئے جن میں 145کروڑ 65لاکھ روپئے جاری کئے گئے جبکہ دیگر محکمہ جات کو زائد از30 فیصد بجٹ کی اجرائی عمل آچکی ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے 2020-21کے دوران مختص بجٹ کا جملہ 43.5 فیصد ہی خرچ کیا جس میں 33فیصد تنخواہوں پر خرچ اور مابقی بجٹ 13.5 فیصد اسکیمات پر خرچ کیا گیا ۔ سال 2020-21کے دوران حکومت نے محکمہ کیلئے 1151.46 کروڑ مختص کئے تھے جس میں محض658.43 کروڑ جاری کئے گئے۔ 658.43کروڑ میں 217 کروڑ 66 لاکھ تنخواہوں کیلئے جاری کئے گئے ۔حکومت اقلیتوں کیلئے متعدد اسکیمات کا اعلان کرتی ہے لیکن ان پر عمل میں بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب کوئی پہل نہیں ہوپائی ہے جن میں مسلم صنعتکاروں اور تاجرین کیلئے دلتوں کی طرز پر ٹی ۔پرائم شروع کرنے کی اسکیم شامل ہے۔ علاوہ ازیں دیگر اسکیمات پر برسوں سے عمل نہ ہونے کی وجوہات کا جائزہ لینے پر واضح ہوا کہ حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کو بجٹ کی اجرائی میں کوتاہی سے اقلیتی اداروں کو غیر کارکرد کردیا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کو سال 2018-19 میںمنظورہ 1973 کروڑ 41لاکھ میں 1214 کروڑ 73لاکھ جاری کئے گئے ۔ اسی طرح 2020-21کے دوران بجٹ سے کافی کم اجرائی کے سبب کئی اسکیمات پر عمل باقی ہے۔ اقلیتی اداروں کیلئے بجٹ کی منظوری اور اجرائی میں فرق پر مسلسل بحث ہوتی ہے اور تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت نے ’گرین چیانل ‘ کے نام سے نئی اصطلاح کے ذریعہ ہر بجٹ میں تیقن دیا کہ حکومت گرین چیانل سے بقایاجات جاری کردیگی حالانکہ مالی سال کے اختتام سے قبل جو بجٹ خرچ نہیں کیاجاتا ہے اس کو محکمہ فینانس سے منجمد کرکے نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے ساتھ واپس کردیا جاتا ہے ۔ اقلیتی اداروں کے ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ بجٹ کیلئے عہدیداروں کو متوجہ کرواتے ہیں لیکن عہدیداروں کی لاپرواہی سے کئی برسوں سے مکمل بجٹ جاری نہیں ہورہا ۔ سابق میں بجٹ کی عدم اجرائی پر محکمہ فینانس کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے کم ازکم لازمی بجٹ رقومات کی اجرائی ہوتی تھی لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد سے محکمہ کو نظرانداز کرنے کی کئی شکایات کے باوجود عہدیدار تماشائی بنے ہیں اور انہیں قطعی فکر نہیں ہے کہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عدم عمل آوری سے اقلیتی نوجوان شدید متاثر ہیں۔م