نئی دہلی ۔ مسلمانوں کو دینی اور عصری تعلیم پر یکساں توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے سیمانچل جن وکاس پریشد کے چیرمین اور مدرسہ دعوت القرآن یتیم خانہ دلشاد گارڈن کے مہتمم مولانا منہاج احمد قاسمی نے کہاکہ اسلامی تعلیمات کو برادران وطن تک پہنچانے کیلئے دین کے ساتھ عصری تعلیم کی بے حد ضرورت ہے ۔ یہ بات انہوں نے مدرسہ میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ وہی قوم آگے بڑھتی ہے جس کے پاس علم کی کنجی ہوتی ہے اور اسی قوم کی قدر ہوتی ہے جس کے پاس گوناگوں کا علم خزانہ ہوتا ہے ۔مسلمانوں کو آج سنجیدگی اور ٹھنڈے دل سے یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے وہ علم و حکمت، دانائی اور سائنسی تجربات کے کس مقام پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پہلے مدارس تمام علوم و فنون کا سرچشمہ ہوا کرتے تھے جس میں سائنس، جغرافیہ، حساب، منطق، فلسفہ اور دیگر عصری علوم کے درس دئے جاتے تھے مگر بدقسمتی سے ان علوم کو دینی اور عصری علوم میں تقسیم کرکے دونوں کو الگ الگ جگہ دے دی گئی اور دینی علوم کے لئے مدارس اور عصری علوم کے لئے اسکول مختص ہوگئے ۔ انہوں نے کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی اور عصری علوم کی تفریق ختم کرکے اور تقسیم کو مٹاکر مدارس میں دونوں طرح کے علوم و فنون پر یکساں توجہ دی جائے ۔