محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔4۔فروری۔ حکومت تلنگانہ کی بے اعتنائی اور اقلیتوں اور مسلمانوں کے مسائل حل نہ کرنے کی کئی شکایات ہیں۔ چیف منسٹر ‘ ریاستی وزراء کے پاس اگر مسلمانوں کے مسائل کے حل کیلئے وقت نہیں ہے تو وہ کسی شخص کو بتائیں جنہیں ہم اپنے مسائل سے واقف کرواکر حل کرواسکتے ہیں‘ اگر حکومت چپراسی کی بھی نشاندہی کردے کہ یہ مسلمانوں کے مسائل حل کریگا تو ہم چپراسی کے پاس شکایات لے جائیں گے اور انہیں حل کروائیں گے۔ہم پرانے شہر کے مسائل ‘ ہمارے مسائل اور قوم کے مسائل چپراسی کے آگے پیش کرنے تیار ہیں۔قائد مقننہ مجلس اکبر الدین اویسی نے آج گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر میں حصہ لیتے ہوئے پرانے شہر کو نظر انداز کرنے و اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی ترقی کے وعدوں کو فراموش کئے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اورکہا کہ وہ جانتے ہیں کہ چیف منسٹر اور وزیر بلدی نظم ونسق کافی مصروف ہیں دیگر وزراء بھی مصروف ہیں لیکن ہمارے مسائل پر بات کریں تو کس سے کریں ! اکبر اویسی نے استفسار کیا کہ پرانے شہر میں کے جی تا پی جی کیمپس کا وعدہ کیا ہوا !پرانے شہر میں میٹروریل کب چلائی جائیگی! چلائی جائیگی بھی یا نہیں !ریس کورس کی جگہ آئی ٹی کے مرکز کا کیاہوا! مکہ مسجد کے تزئین نو اور مرمت کے کام کب ختم ہونگے ! شاہی مسجد و مکہ مسجد ملازمین کو باقاعدہ بنانے کے وعدہ کا کیا ہوا! حکومت نے اسلامک کلچرل سنٹر کیلئے 10 ایکڑ اراضی حوالہ کی اس کی تعمیر کب شروع ہوگی! انیس الغربا کی تعمیر کب مکمل کی جائے گی! انہوں نے بتایا کہ اوورسیز اسکالرشپس کے بعد طلبہ بیرون ملک تعلیم مکمل کرچکے ہیں لیکن اب تک اسکالرشپس کی اجرائی نہیں ہوئی ۔ وہ باربارکہہ رہے ہیں کہ 150کروڑ کی اجرائی پر یہ مسئلہ حل ہوجائے گا لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے۔ انہوںنے پرانے شہر میں ترقیاتی کاموں بالخصوص سڑکوں کی توسیع کا تذکرہ کیا اور کہا کہ 1980 کے سڑکوں کی توسیع کے کام اب تک زیر التواء ہیں۔ قائد مجلس نے ایس آر ڈی پی دوسرے مرحلہ میں مجلس کی توجہ دہانی کے باوجود کاموں کو منظوری نہ دینے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہر کے تمام حصوں سنٹرل زون‘ نارتھ زون‘ ایسٹ زون اور ویسٹ زون میں ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز ہے لیکن ساؤتھ زون کو نظرانداز کیا جا رہاہے ۔ وہ گچی باؤلی تا شمس آباد میٹرو کے مخالف نہیں ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ پرانے شہر میں بھی میٹرو چلائی جائے۔ انہوں نے ورنگل میں دواخانہ کی اندرون ایک سال تکمیل کے منصوبہ پر حکومت کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ شہر میں ایک عثمانیہ دواخانہ ہے اس کی مناسب دیکھ بھال میں حکومت کیوں خاموش ہے! ۔