مسلمان صدر اور سکھ وزیر اعظم کے ہاتھوں میں تمام مذاہب محفوظ تھے

   

سوشیل میڈیا پر تاریخی تصویر وائرل، ڈاکٹر منموہن سنگھ کی کئی خوبیوں کو عوام نے اجاگر کیا

حیدرآباد۔/29ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سابق وزیراعظم آنجہانی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال کے بعد ان کی زندگی کے کئی ایسے پہلو عوام میں منظر عام پر آرہے ہیں جس میں ان کی انسانیت دوستی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثالیں ملتی ہیں۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ یو پی اے دور حکومت میں 10 سال تک وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز رہے اور انہوں نے کمزور طبقات اور اقلیتوں کی بھلائی کیلئے کئی ٹھوس قدم اٹھائے تھے۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کے رول کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس عظیم شخصیت کے دیہانت کے بعد سوشیل میڈیا میں عوام کی جانب سے کئی دلچسپ تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کی سیاسی، سماجی، معاشی اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی کئی خوبیوں کو اجاگر کیا۔ سوشیل میڈیا میں ایک تصویر کافی وائرل ہوئی جس میں سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کو بات چیت کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ تصویر اُسوقت کی ہے جب اے پی جے عبدالکلام ملک کے صدر جمہوریہ اور ڈاکٹر منموہن سنگھ وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر فائز تھے۔ تصویر کے ساتھ سوشیل میڈیا میں تبصرہ کیا گیا ہے کہ صدر جمہوریہ مسلمان اور سکھ طبقہ کے وزیر اعظم کے باوجود ملک میں ہندو طبقات کو مکمل تحفظ حاصل رہا اور ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات پیش نہیں آئے۔ دونوں کا تعلق اگرچہ اقلیتی طبقات سے رہا لیکن ان کے ہاتھوں میں ملک محفوظ تھا۔ ہندو، مسلم اور دیگر طبقات کی بھلائی اور ترقی پر یکساں توجہ مرکوز کی گئی۔ سوشیل میڈیا پر عوام نے تبصرہ کیا ہے کہ ملک کو آج ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے جس کے ہاتھ میں تمام طبقات محفوظ رہیں۔ جب تک ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رہے گی ملک بھی محفوظ رہے گا۔1