مسلمان ہر ظلم برداشت کر لے گا، لیکن ملک کا نام خراب ہونے نہیں دے گا

,

   

نفرت کو برداشت کرنے کا فیصلہ ہماری کمزوری نہیں، ہماری طاقت ہے، نفرت کا جواب محبت سے دینے کا عزم: محمود مدنی
ملک بھر میں ایک ہزار خیر سگالی کانفرس منعقد کرنے کا اعلان‘ جمعیۃ علماء ہند کے 2روزہ اجلاس کا آغاز
دیوبند: جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے دارالعلوم کی سرزمین دیوبند میں آج دو روزہ اجلاس کا آغاز ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر سے مختلف تنظیموں کے نمائندے شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔ اجلاس کے پہلے دن علماء نے کہا کہ مسلمان ہر ظلم برداشت کر لے گا، لیکن ملک کا نام خراب نہیں ہونے دے گا۔ دریں اثنا، مثبت پیغام دینے کے لئے جمعیۃ کی جانب سے ملک بھر میں ایک ہزار خیر سگالی کانفرس منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ محمود اسد مدنی نے کہا کہ بے عزت ہو کر خاموش ہو جانا کوئی مسلمانوں سے سیکھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تکلیف برداشت کرلیں گے، مصیبت برداشت کریں گے لیکن ملک کا نام خراب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جمعیۃ علماء ہند امن کو فروغ دینے اور درد، نفرت کو برداشت کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ ہماری کمزوری نہیں، ہماری طاقت ہے۔محمود اسد مدنی نے اپنے خطاب کا آغاز حالات حاضرہ پر شاعری کے ساتھ کیا اور اس دوران وہ جذباتی بھی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ہی ملک میں اجنبی بنا دیا گیا۔ محمود اسد مدنی نے اکھنڈ (متحد) بھارت کی بات کرنے والوں پر بھی نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ آپ کس متحدہ ہندوستان کی بات کرتے ہیں؟ آج مسلمانوں کا چلنا پھرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ صبر کا امتحان ہے۔ ہمارا ایمان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’اس بات کو سمجھ لیجئے کہ اس ملک میں اکثریت ان لوگوں کی نہیں ہے جو نفرت کے کھلاڑی ہیں، اگر ہم نے ان کے لب و لہجہ میں جواب دیا تو وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ملک کی خاموش اکثریت آج بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھتی ہے کہ نفرت کے بازار میں نفرت کی دکان کھولنے والے لوگ ملک دشمن اور غدار ہیں۔ لہذا نفرت کا جواب کبھی نفرت نہیں ہو سکتا۔ محمود مدنی نے مزید کہا کہ ’’ہم ہر چیز برداشت کر سکتے ہیں لیکن وطن عزیز کی سلامتی کے خلاف اٹھایا گیا قدم ہمیں برداشت نہیں ہوگا۔ ظلم برداشت کرلینا، گالیاں کھا لینا، بے عزت ہونا اور اس کے بعد بھی خاموش رہنا کوئی ہم سے سیکھے۔ ترکی بہ ترکی جواب دینا آسان ہے لیکن مسلمان ایسا نہیں کریں گے۔ قبل ازیں، اجلاس کے دوران اسلامو فوبیا کے حوالے سے بھی ایک قرارداد پیش کی گئی۔ اس قرارداد میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ‘اسلامو فوبیا’ صرف مذہب کے نام پر دشمنی نہیں بلکہ اسلام کے خلاف خوف اور نفرت کو دل و دماغ پر حاوی کرنے کی مہم ہے۔ جمعیۃ نے کہا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ‘انڈین مسلمانوں کے لیے انصاف اور بااختیارانہ اقدام’ کے نام سے ایک شعبہ بنایا ہے۔ اس کا مقصد ناانصافی اور ظلم کو روکنے، امن اور انصاف کو برقرار رکھنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنا ہے۔قبل ازیں مولانا نیاز فاروقی نے کہا کہ اجلاس میں گیان واپی، متھرا، قطب مینار جیسے تمام مسائل کے ساتھ ساتھ مدارس میں جدید تعلیم کے بارے میں بات چیت ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کی بھرپور وکالت کی جائے گی۔ خیال رہے کہ جمعیۃ علماء ہند کا یہ اجلاس تین نشستوں پر مشتمل ہے۔ پہلی دو نشستیں ہفتہ اور تیسری نشست اتوار کے روز منعقد ہوگی۔ تیسری نشست میں جمعیۃ کی جانب سے متعدد قراردادیں پیش کی جائیں گی۔ جمعیۃ کے اس اجلاس کا خاکہ 15 مارچ کو دہلی میں منعقدہ ایک پروگرام میں طے کیا گیا۔مولانا محمود مدنی کی صدارت میں منعقد ہو رہے اس اجلاس میں میں تقریباً 5000 علمائے کرام اور مسلم دانشوروں کی شرکت کی توقع کی گئی ہے۔ اس دو روزہ اجلاس کا مقصد موجودہ دور میں ملک کے مسلمانوں کے سماجی، سیاسی، مذہبی حالات پر حکمت عملی بنانے کے ساتھ گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ کے حوالے سے جاری تنازعہ پر غور و خوض کرنا ہے۔ اجلاس میں ملک بھر سے آنے والے علمائے کرام اور مسلم دانشوروں کی سیکورٹی کے لیے سہارنپور انتظامیہ کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اجلاس کے مقام پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔