نامزد عہدوں کا معاملہ برفدان کی نذر، اقلیتی قائدین کے صبر کا امتحان،صرف اقلیتی اداروں میں نامکمل تقررات
حیدرآباد۔/30 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں مسلمان 12 فیصد تحفظات سے تو محروم ہیں لیکن ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین بھی 12 سرکاری عہدے حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ علحدہ ریاست کی مہم میں ٹی آر ایس سربراہ کے سی آر نے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے پارٹی قائدین اور کارکنوں کے ساتھ نئی ریاست میں مکمل انصاف کا بھروسہ دلایا تھا لیکن نئی ریاست کو آٹھ برس مکمل ہوگئے لیکن آج تک بھی انصاف نہیں ملا۔ یوں تو دیگر طبقات جیسے ایس سی، ایس ٹی، بی سی سے تعلق رکھنے والے قائدین کو سرکاری اور نامزد عہدوں میں مناسب نمائندگی دی گئی لیکن مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے ٹی آر ایس قائدین کو آج بھی سرکاری عہدوں کا انتظار ہے اور ان میں سے کئی تو مایوس ہوکر مشہور قوالی ’ کب تک میرے مولا ‘ گنگنانے پر مجبور ہیں۔ کے سی آر نے مسلمانوں کو اقتدار کے چار ماہ میں 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیاتھا لیکن سپریم کورٹ میں مقدمہ کا بہانہ بناکر ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے۔ مسلمان تو تحفظات سے محروم ہیں لیکن ٹی آر ایس کے قیام سے پارٹی میں سرگرم رہنے والے قائدین کو 8 برسوں میں 12 سرکاری عہدے حاصل نہیں ہوئے۔ ہر چھ ماہ بعد اقلیتی قائدین کو یہ کہتے ہوئے خوش کیا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے نامزد عہدوں پر تقررات کی فائل طلب کرلی ہے اور سینئر قائدین کے ناموں کی فہرست تیار کی جارہی ہے۔ چند دن اقلیتی قائدین عہدہ کے انتظار میں گذار دیتے ہیں اور مختلف وزراء سے رجوع ہوکر اپنے بائیو ڈاٹا پیش کرتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ یہ چیف منسٹر تک پہنچ جائیگا۔ نامزد عہدوں پر تقررات کے سلسلہ میں ٹی آر ایس قائدین کی مایوسی ان کے صبر کے امتحان میں تبدیل ہوچکی ہے۔ پارٹی کے قیام سے سرگرم رہنے والے کئی قائدین کی امیدیں اب ختم ہوچکی ہیں اور وہ بتدریج خود کو پارٹی سرگرمیوں سے دور کرچکے ہیں۔ 2014 میں اقتدار ملنے کے فوری بعد اقلیتی اداروں پر تقررات نہیں کئے گئے اور 2018 میں وسط مدتی انتخابات سے قبل اقلیتی اداروں کے صدورنشین کا تقررکیا گیا۔ اقلیتی کمیشن، اردو اکیڈیمی، اقلیتی فینانس کارپوریشن، حج کمیٹی اور وقف بورڈ کے صدور نشین کا تقرر کیا گیا۔ ان میں سے صرف دو ادارے وقف بورڈ اور حج کمیٹی میں ارکان کا بھی تقرر کیا گیا کیونکہ ان دونوں اداروں میں صدرنشین کا انتخاب ارکان کرتے ہیں۔ اردو اکیڈیمی اور فینانس کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائرکٹرس کی تشکیل عمل میں نہیں لائی گئی جس کے نتیجہ میں کئی سینئر کارکن نامزد عہدوں سے محروم رہے۔ حکومت نے 4 جنرل کارپوریشنوں پر اقلیتی قائدین کا تقرر کیا تھا جن میں انڈسٹریل انفرااسٹرکچر کارپوریشن، تجدید توانائی کارپوریشن، کھادی اینڈ ولیج بورڈ اور سٹ ون شامل ہیں۔ ان میں انفرااسٹرکچر کارپوریشن کے صدرنشین نے پارٹی تبدیل کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا جبکہ سٹ ون کے صدرنشین کو اسمبلی الیکشن میں حصہ لینے کیلئے صدارت چھوڑنی پڑی۔ تجدید توانائی کارپوریشن اور کھادی اینڈ ولیج بورڈ کے صدور نشین کی میعاد مکمل ہوچکی ہے۔ مموجودہ حالات میں صرف 4 اقلیتی اداروں پر صدورنشین موجود ہیں جن میں حج کمیٹی، اردواکیڈیمی، وقف بورڈ اور اقلیتی فینانس کارپوریشن شامل ہیں۔ ان میں سے اردو اکیڈیمی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائرکٹرس کی عدم تشکیل سے اقلیتی قائدین دوبارہ مایوس ہوچکے ہیں۔ ریاست میں بی سی اور ایس سی کمیشن تشکیل دیا گیا لیکن اقلیتی کمیشن کی تشکیل جدید پر حکومت کی عدم توجہی باعث حیرت ہے۔ اب جبکہ اسمبلی انتخابات کو صرف ایک سال باقی ہے ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین نے سرکاری اور نامزد عہدوں کی امید ترک کرتے ہوئے عہدہ کیلئے اپنی دوڑ دھوپ روک دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹھ برسوں میں پارٹی کے قیام میں اہم رول ادا کرنے والے قائدین کو بھی نظر انداز کردیا گیا۔ صدور نشین کے انتخاب میں حج کمیٹی اور وقف بورڈ کے صدورنشین کو ایکسچینج آفر کے تحت دوبارہ صدارت دی گئی۔ ناراض اقلیتی قائدین کا ماننا ہے کہ گذشتہ آٹھ برسوں میں حقیقی کارکن عہدے حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے لئے وہ چیف منسٹر سے زیادہ حکومت میں شامل قائدین اور عوامی نمائندوں کو ذمہ دار مانتے ہیں۔ر