مسلم آبادی پر نرسنگھ پریشان ہندوؤں پر برہمی

   

متھرا: متنازعہ سادھو یتی نرسنگھانند جو ہریدوار میں نفرت انگیز تقریر کے کیس میں ضمانت پر ہے، اسے ملک میں مسلمانوں کی آبادی کھائے جارہی ہے۔ وقفہ وقفہ سے نرسنگھ کو باقاعدہ پلیٹ فام سے مسلمانوں کی بڑھتی آبادی سے تشویش ظاہر کرتے سنا اور دیکھا گیا ہے۔ غازی آباد کی داسنا مندر کے پجاری نے گذشتہ روز گوردھن میں اخباری نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ اگر آبادی کا تناسب یوں ہی آگے بڑھتا رہا تو وہ 2029ء میں کوئی غیر ہندو شخص وزیراعظم ہند بن جائے گا۔ نرسنگھ نے ہندوؤں پر عملاً برہمی ظاہر کرتے ہوئے انہیں متنبہ کیا اور زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں۔ گذشتہ اتوار کو نرسنگھ نے دہلی کے براری گراؤنڈ میں منعقدہ ہندو مہا پنچایت میں حصہ لیا تھا۔ نرسنگھ کو خدشہ ہیکہ مسلم وزیراعظم ہوا تو 50 فیصد ہندو مذہب تبدیل کرلیں گے۔