پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات، تمام طبقات کی یکساں ترقی تلگودیشم کی پالیسی
حیدرآباد 7 جون (سیاست نیوز) آندھراپردیش اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ مفاہمت کے باوجود تلگودیشم پارٹی نے مسلم تحفظات پر اپنا موقف برقرار رکھا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے تلنگانہ اور دیگر ریاستوں کی انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے بی جے پی برسر اقتدار آنے پر مسلم تحفظات کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صدر تلگودیشم چندرابابو نائیڈو نے بی جے پی قائدین کو آندھراپردیش کی مہم میں مسلم تحفظات کی مخالفت سے باز رکھنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ نتائج کے اعلان کے بعد تلگودیشم نے این ڈی اے میں برقرار رہنے کا اعلان کیا تاہم مسلم تحفظات پر موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اِسی دوران جنرل سکریٹری تلگودیشم نارا لوکیش نے واضح کیاکہ آندھراپردیش میں مسلم تحفظات جاری رہیں گے۔ قومی نیوز چیانل کو انٹرویو میں چندرابابو نائیڈو کے فرزند نارا لوکیش نے کہاکہ آندھراپردیش میں گزشتہ 2 دہوں سے مسلم تحفظات پر عمل کیا جارہا ہے اور اُن کی پارٹی تحفظات کی برقراری کے عہد کی پابند ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تحفظات سماجی انصاف کے تحت فراہم کئے گئے ہیں اور اِسے مسلمانوں کی خوشنودی قرار دینا غلط ہوگا۔ تلگودیشم کو آندھراپردیش میں 25 میں 16 لوک سبھا حلقوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور وہ این ڈی اے میں دوسری بڑی جماعت کا موقف رکھتی ہے۔ لوکیش نے کہاکہ آندھراپردیش میں تلگودیشم حکومت بیروزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور کمزور طبقات کی ترقی پر توجہ مرکوز کرے گی۔ لوکیش نے کہاکہ مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات فراہم کئے گئے جو سماجی انصاف کا حصہ ہے۔ آندھراپردیش میں مسلمانوں کی فی کس آمدنی دیگر طبقات کے مقابل کم ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت کے طور پر ہماری ذمہ داری ہے کہ غربت کے خاتمہ کی مساعی کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ مسلمانوں کی بھلائی کے بارے میں حکومت کے فیصلے ذمہ داری کے تحت ہیں نہ کہ خوشنودی حاصل کرنے کیلئے۔ لوکیش نے کہاکہ اگر آپ ہندوستان کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو کسی ایک طبقہ کو ترقی سے محروم نہیں کرسکتے اور تلگودیشم پارٹی تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتی ہے۔ لوکیش نے میڈیا کی اِن خبروں کی تردید کی کہ تلگودیشم نے مرکز میں لوک سبھا اسپیکر کے عہدہ کا مطالبہ کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم عہدوں کے لئے نہیں بلکہ ریاست کے لئے فنڈس حاصل کرنے مذاکرات کریں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ مضبوط ریاستیں ملک کو مضبوط بناسکتی ہیں۔ آندھراپردیش، ہندوستان کو 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے میں حصہ دار بننا چاہتا ہے۔ آندھراپردیش کی معیشت ایک ٹریلین ڈالر کی ہوسکتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلگودیشم مرکز میں این ڈی اے میں برقرار رہے گی۔ 1