مسلم تحفظات کو 4 سے گھٹاکر 3 فیصدکرنے کے سی آر حکومت پر الزام

   

12 فیصد تحفظات کے نام پر دھوکہ، محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد۔10۔ فروری (سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر حکومت نے مسلمانوں کے 4 فیصد تحفظات کو گھٹاکر 3 فیصد کردیا ہے۔ محمد علی شبیر کو آج کاما ریڈی میں مسجد وحیدیا کی کمیٹی کی جانب سے بعد نماز جمعہ تہنیت پیش کی گئی ۔ متحدہ آندھراپردیش میں 4 فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی میں ان کے نمایاں رول پر تہنیت پیش کی گئی۔ مسجد کمیٹی کے ارکان نے کہاکہ محمد علی شبیر 4 فیصد مسلم تحفظات کے چمپین ہیں اور ان کی مساعی کے نتیجہ میں دونوں تلگو ریاستوں کے لاکھوں طلبہ کو تعلیم اور روزگار میں فائدہ ہوا ہے۔ محمد علی شبیر نے اس موقع پر کہا کہ چار فیصد مسلم تحفظات کے استفادہ کنندگان اور مسلمانوں کو چاہئے کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس پارٹی کی تائید کریں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے نام پر دھوکہ دیا ہے۔ حکومت نے موجودہ 4 فیصد تحفظات کو گھٹاکر 3 فیصد کردیا۔ اس بارے میں پبلک سرویس کمیشن کے اعلامیہ میں بی سی ای زمرہ کے تحت الاٹ کردہ نشستوں سے انکشاف ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کی فراہمی میں ایک فیصد کی کمی سے سینکڑوں مسلم امیدواروں کو نقصان ہوگا۔ کانگریس نے نہ صرف 4 فیصد تحفظات پر عمل کیا بلکہ اقلیتوں کی بھلائی کی کئی اسکیمات متعارف کی تھی ۔ کے سی آر حکومت نے اقلیتی اداروں کو فنڈس سے محروم اور عہدیداروں کے بغیر رکھتے ہوئے کارکردگی کو ٹھپ کردیا ہے۔ کے سی آر سیکولرازم کا جھوٹا نقاب پہن کر مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ بی آر ایس نے ہمیشہ بی جے پی حکومت کے فیصلوں کی تائید کی ۔ کانگریس پارٹی بی آر ایس کو بے نقاب کرنے کیلئے عنقریب مہم شروع کرے گی ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ میں اقلیتی طبقہ کے 10 تا 12 لاکھ نوجوان بیروزگار ہیں لیکن گزشتہ 8 برسوں میں ایک بھی مسلم نوجوان کو قرض جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں کانگریس کی تائید کریں۔ر