بومائی حکومت کے احکامات کو چیلنج، مسلم تنظیموں کی جانب سے علحدہ درخواست کی تیاری
حیدرآباد۔31۔مارچ (سیاست نیوز) کرناٹک میں 4 فیصد مسلم تحفظات کی برقراری کیلئے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ سماجی جہد کار محمد عارف جمیل نے مفاد عامہ کی درخواست دائر کرتے ہوئے بی جے پی حکومت کی جانب سے برخواست کئے گئے مسلم تحفظات کی بحالی کی درخواست کی ہے۔ نامور ایڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال مقدمہ کی پیروی کرتے ہوئے تحفظات کے حق میں دلائل پیش کریں گے۔ کرناٹک کی مسلم تنظیموں نے بھی مشترکہ طورپر درخواست پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ پیر کے دن کرناٹک ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے اجلاس پر مسلم تحفظات مسئلہ کی سماعت ہوگی۔ محمد عارف جمیل نے کہا کہ کابینہ میں فیصلہ کے بعد حکومت نے جی او جاری کرتے ہوئے 4 فیصد مسلم تحفظات کو دیگر دو طبقات میں تقسیم کردیا ہے۔ اب جبکہ اسمبلی انتخابات کا ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے ، لہذا حکومت کو اختیار نہیں کہ تحفظات کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے۔ لہذا عدالت سے انصاف حاصل کرنے کیلئے مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ تحفظات مسلمانوں کا حق ہے اور مرکزی حکومت کے 10 فیصد تحفظات میں مسلمانوں کو شامل کرتے ہوئے دھوکہ دیا جارہا ہے۔ معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے لئے 10 فیصد تحفظات کی گنجائش ہے اور اس زمرہ میں تمام اعلیٰ طبقات شامل ہیں اور مسلمانوں کو تحفظات کیلئے کافی جدوجہد کرنی پڑے گی۔ عدالت سے درخواست کی جائے گی کہ حکومت کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مسلم تحفظات کو برقرار رکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے وقت مسلمانوں کو تحفظات کی نشاندہی ضروری ہے تاکہ انہیں پیشہ ورانہ کورسس میں داخلے حاصل ہو۔ محمد عارف جمیل نے امید ظاہر کی کہ کرناٹک ہائیکورٹ مسلم تحفظات کے حق میں فیصلہ کرے گا۔ر