مسلم لڑکیوں کو پیار میں پھنساؤ ،متالک کی اشتعال انگیزی

   

بنگلور: ہندوتوا تنظیموں سے جڑے لیڈروں کی اشتعال انگیزی کسی بھی صورت کم ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اب کرناٹک میں شری رام سینا چیف پرمود متالک نے ایک انتہائی متنازعہ بیان دیا ہے جو مسلمانوں کے خلاف نفرت کا غماز ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ لوو جہاد کو روکنے کیلئے مسلم لڑکیوں کو پیار میں پھنسانا ہوگا۔ ایک کے بدلے 10 مسلم خواتین کو پھنساؤ۔ساتھ ہی متالک نے یہ بھی کہا کہ ایسا کرنے والے نوجوانوں کی ملازمت اور سیکورٹی کی ذمہ داری شری رام سینا اٹھائے گی۔ متالک نے مسلمانوں کے خلاف نفرت بھرے انداز میں کہا کہ ہماری (ہندو) لڑکیوں کو ٹھگ کر لوو جہاد کو انجام دیا جا رہا ہے۔ اگر وہ ہماری ایک لڑکی سے شادی کرتے ہیں تو ہندو نوجوان ان کی 10 لڑکیوں کو پھنسائیں۔ کرناٹک میں مذہب تبدیلی مخالف قانون نافذ ہے، لیکن مذہب تبدیلی کا عمل بند نہیں ہوا ہے۔اب ہندو نوجوانوں کو ہی قدم اٹھانا ہوگا۔ انھوں نے ہندو نوجوانوں کو اسلحہ رکھنے کی بھی تلقین کی۔ متالک نے کہا کہ ہماری روایات میں اپنی حفاظت کیلئے ہر کسی کے گھر میں تلوار ہونی چاہئے۔
پولیس اس سلسلے میں کچھ بھی کہے تو کہہ دینا کہ ماں درگا کے ہاتھ میں بھی تلوار ہے۔پرمود متالک نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا رول ماڈل بتایا اور کہا کہ وزیر اعظم کے نظریہ کو سامنے لانے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ پرمود متالک کے تازہ بیان نے ایک بار پھر ہندو-مسلم منافرت کا زہر ہوا میں گھولنا شروع کر دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پرمود متالک پہلے بھی کئی بار متنازعہ بیانات دے چکے ہیں۔ 2018 میں انھوں نے کرناٹک میں دانشوروں کے قتل کا موازنہ ’کتے کی موت‘ سے کیا تھا۔ ایسے بیانات و دیگر اسباب کے پیش نظر پرمود متالک کے خلاف 45 سے زائد معاملے بھی درج ہیں۔