مسلم مطلقہ کو بھی شوہر سے گزارہ بھتہ طلب کرنیکا حق:سپریم کورٹ

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج مسلم خواتین کے حوالے سے بڑا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ایک اہم فیصلے میں ایک بار پھر واضح کیا ہیکہ سی آر پی سی کی دفعہ 125 کے تحت مسلم خاتون اپنے شوہر سے کفالت کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ ایک مسلمان شخص نے اپنی بیوی کو کفالت ادا کرنے کے تلنگانہ ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے گزارہ بھتہ سے متعلق اہم فیصلہ سنایا ہے۔محمد عبدالصمد نامی شخص نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ جسٹس بی وی ناگارتھنا اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے سی آر پی سی کی دفعہ 125 کے تحت طلاق یافتہ بیوی کو کفالت ادا کرنے کی ہدایت کے خلاف محمد عبدالصمد کی درخواست کو مسترد کردیا۔ عدالت نے کہا کہ مسلم خواتین (طلاق پر حقوق کے تحفظ) ایکٹ 1986 سیکولر قانون کو زیر نہیں کرسکتا۔ جسٹس ناگرتھنا اور جسٹس مسیح نے الگ الگ لیکن متفقہ فیصلہ دیا۔ ہائی کورٹ نے محمد صمد کو 10,000 روپے کا بھتہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔فیصلہ سناتے ہوئے، جسٹس ناگارتھنا نے کہا کہ ہم اپیل کو اس نتیجہ کے ساتھ خارج کر رہے ہیں کہ سی آر پی سی کی دفعہ 125 تمام خواتین پر لاگو ہوتی ہے نہ کہ صرف شادی شدہ خواتین پر۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر مسلم خاتون سی آر پی سی کی دفعہ 125 کے تحت درخواست کے زیر التوا ہونے کے دوران طلاق لے لیتی ہے تو وہ مسلم خواتین (طلاق پر حقوق کے تحفظ) ایکٹ 2019 کی مدد لے سکتی ہے۔