مشرق وسطیٰ کو تباہ کرنے کے منصوبے اور سازشیں

   

روش کمار

ٹرمپ بار بار کہہ رہے ہیں کہ ایران پر بڑا حملہ ہوگا اور اس بار کا حملہ ایک طویل عرصہ تک جاری رہے گا۔ کیا اس بار امریکہ اپنے دم پر اپنے بل بوتے پر جنگ کو بڑا کرے گا یا سعودی عرب سے لیکر متحدہ عرب امارات کو بھی ایران کے خلاف جنگ میں گھسیٹ لے گا۔ اس کی شروعات صناع ایرپورٹ حملہ سے بتائی جارہی ہے۔ ہم اس پر بات کریں گے لیکن پہلے آپ کو آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بتائیں گے جس پر کنٹرول کی کوشش میں ٹرمپ کئی مرتبہ ناکام ہوچکے ہیں۔ آبنائے ہرمز روٹ پر ایران کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگوں سے ڈر کر جب جہازوں نے وہاں سے گزرنا بند کیا تب ٹرمپ کچھ نہیں کرپائے، نہ ان کی ٹکنالوجی کچھ کرسکی۔ امریکہ ان بارودی سرنگوں کو آج تک نہیںہٹا پایا۔ پھر ٹرمپ نے دوسرے ملکوں سے ہرمز پر کنٹرول کرنے کیلئے فوج کی مدد مانگی لیکن کسی نے مدد نہیں کی۔ جب کوئی امکانات باقی نہیں رہے تب 13 اپریل کو ہرمز میں امریکی جنگی جہاز کھڑے کردیئے گئے لیکن 17 جون کے معاہدہ کے مطابق امریکہ کو ہی پیچھے ہٹنا پڑا، محاصرہ ختم کرنا پڑا۔ ایران پیچھے نہیں ہٹا جہاں تھا وہیں رہا۔ جس دوران امریکہ نے ہرمز پر بحری ناکہ بندی کی تھی تب بھی وہ ایران کی مرضی کے بغیر جہازوں کو ہرمز پار نہیں کرا پایا۔ اتنی بار فیل ہونے کے بعد بھی ٹرمپ کو اس مرتبہ کیوں لگ رہا ہے کہ ہرمز پر ان کا کنٹرول ہوجائے گا۔ 10 جولائی کو ٹرمپ نے امریکی کانگریس کو لیٹر لکھا کہ اس بار حملہ اس لئے ہوا کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کمرشیل جہازوں پر حملہ کردیا جب کہ سمجھوتہ کی ایک شرط تھی کہ ایران یہاں سے کمرشیل جہازوں کیلئے محفوظ راہ کا انتظام کرنے کی کوشش کرے گا لیکن اس نے کئی نیوٹرل جہازوں پر حملہ کردیا جس کی وجہ سے امریکہ کو جنگ شروع کرنا پڑا۔ ٹرمپ ہرمز ہرمز کررہے ہیں لیکن پناماکنال کو لیکر ان کی دھمکیوں کو یاد کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ کب سے پناماکنال کو کنٹرول میں لینے کی بات ٹرمپ اور ان کے حلیف کررہے ہیں۔ آج تک اس پر ان کا کنٹرول نہیں ہوسکا۔ کتنی بار ٹرمپ نے دھمکی دی کہ پناماکنال پر چین کا دبدبہ ہوگیا ہے۔ پناما نے چین کو اہمیت دے کر شرطیں توڑ دی ہیں۔ اسے بنانے میں پیسہ امریکہ کا لگا تو کنٹرول بھی امریکہ کا ہونا چاہئے۔ ایک وقت میڈیا میں پناماکنال کے خوب چرچے ہوا کرتے تھے۔ اس کی تاریخ شائع ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں وہ چیزیں غائب ہیں اسی طرح گرین لینڈ پر قبضہ کو بھی ٹرمپ بھول چکے ہیں۔ Panama Canal امریکہ کے سب سے قریب ہے اس کے مقابلہ ہرمز واشنگٹن سے تقریباً دس گیارہ ہزار کیلو میٹر کی دوری پر ہے۔ پناما ایک چھوٹا سا ملک ہے امریکہ کے ٹھیک پڑوس میں تو نہیں مگر قریب تو ہے ہی اس پر امریکہ کنٹرول نہیں کرپایا اس لئے ایران کے قبضہ سے ہرمز کو اپنے کنٹرول میں لینے کی بات ٹرمپ کو باتونی بنارہی ہے۔ دنیا میں ان کا مذاق اڑ رہا ہے۔ ہرمز میں کنٹرول کرکے کیا امریکہ برسوں ایران سے لڑتا رہے گا۔ ایران کا کیا کریں گے کیا اسے اٹھا کر روس اور چین کے درمیان رکھ آئیں گے اور ہرمز میں ٹرمپ کشتی چلایا کریں گے۔ اگر ہرمز پر ایران کا حق نہیں ہے تو امریکہ کا حق کس بنیاد پر ہوجاتا ہے۔ ہرمز امریکہ کے کنارے تو نہیں ہے۔ ٹرمپ نے اپنے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ہرمز سے گذرنے والے مال بردار جہازوں سے امریکہ 20 فیصد کے حساب سے ٹول وصول کرے گا۔ ایران کے علاوہ تمام ملکوں کو یہاں سے جانے کی اجازت ہوگی اور ہم انہیں تحفظ فراہم کرنے کیلئے فیس لیں گے۔ امریکہ ہرمز کا گارجین یعنی سرپرست بنے گا۔ امریکہ کہہ رہا ہے ہرمز کھلا ہے لیکن جہاز تو نہیں گزر رہے ہیں۔ جنگ کی وجہ سے جہازوں کا گزرنا تقریباً بند ہے لیکن ٹرمپ ٹول کا Rate بتانے میں مصروف ہیں۔ ٹرمپ کو پتہ ہے کہ ایران ہرمز کسی بھی حال میں نہیں چھوڑے گا۔ ٹرمپ کے اس بیان پر ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کا ٹوئیٹ آیا ہے کہ ٹرمپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں جو بھی ہرمز میں تحفظ فراہم کراتا ہے اسے اس کے پیسے ملنے ہی چاہئے۔ ایران ہمیشہ ہی ہرمز کا گارجین (سرپرست) رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا لیکن20 فیصد فیس بہت زیادہ ہے۔ ہم مناسب طور پر چارج کریں گے۔ ایران جنگ کے ساتھ ساتھ جواب دینے میں بھی امریکہ پر بھاری پڑجاتا ہے۔ دنیا کے ملکوں کے پاس دو ہی امکانات ہیں پہلا یہ کہ ایران ہرمز میں فیس لے گا اور دوسرا امریکہ ہرمز میں فیس لے گا تو ہرمز سے مفت گزرنے کی بات اب ختم ہوجاتی ہے۔ کسی بھی ملک یا کمپنی کے پاس امکان نہیں بچتا ہے کہ ہرمز سے بنا پیسہ دیئے اپنے ٹینکرس گزارے۔ یہ بات ٹرمپ کے بھی خلاف ہے جو کچھ دنوں پہلے تک کیا کرتے تھے کہ ہرمز سے آنا جانا (گزرنا) فری ہوگا جب ٹرمپ ہی اپنی بات سے پلٹ گئے اور 20 فیصد فیس مانگ رہے ہیں تو اس سے کم میں ایران کو فیس دینے میں مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔ عراقچی کی بات کا یہی مطلب ہے ہرمز کی وجہ سے سعودی عرب نے باب المنداب کے راستے اپنے تیل کو فروخت کرنا شروع کیا مگر یمن کے صنعاع ایرپورٹ پر حملہ کے بعد ایران کے حامی حوثی گروپ نے باب المنداب کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوا تو خلیجی ممالک کیلئے سربراہی کا دوسرا ذریعہ بند ہوسکتا ہے۔ دنیا میں تیل بہت مہنگا ہوجائے گا۔ اس طرح کی دھمکی اپریل میں بھی دی گئی تھی لیکن اس بار حالات پہلے سے زیادہ سنگین لگ رہے ہیں۔ ہرمز بند ہونے کے باوجود بھی سعودی عرب کو زیادہ نقصان اس لئے نہیں ہوا کہ اس نے اپنی پائپ کے جال سے تیل کی سربراہی بحراحمر تک پہنچادی اور وہاں سے تیل سپلائی کیا۔ حوثیوں نے بھی نہیں روکا۔ بحراحمر تک سعودی کے تیل کو جانے دیا۔ جنترمنتر پر ان کی بھوک ہڑتال کا 20 واں دن ہے۔ ابھی تک حکومت کا کوئی نمائندہ سونم وانگچوک سے بات کرنے نہیں آیا اور نہ بھوک ہڑتال ختم کروانے کی کوشش کی گئی۔ کیا حکومت کی انا اس قدر بڑھ گئی ہے کہ وہ احتجاجی مظاہرین سے بات ہی نہیں کرے گی۔ اسے کس تھرمامیٹر سے پتہ چلتا ہے کہ 59 سال کے ایک فرد کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے کچھ ہوگیا تب بھی اس ملک کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیا واقعی لوگ ایسے ہی ہوگئے ہیں یا حکومت کو یہ بھروسہ کسی اور وجہ سے آنے لگا ہے اسے اب لوگوں کے ردعمل کی پرواہ ہی نہیں رہی۔ ان 20 دنوں میں سونم وانگچوک کی صحت بگڑتی جارہی ہے۔ بلڈشوگر گرتی جارہی ہے۔ بلڈپریشر بھی کم ہوتا جارہا ہے۔ وزن تقریباً 9.5 کیلو گرام گھٹ گیا ہے۔ سونم وانگچوک کے حامی بے چین ہونے لگے ہیںکہ اس حالت میں کب تک بھوک ہڑتال کرسکتے ہیں۔ انہیں بھوک ہڑتال ختم کردینی چاہئے۔ انہیں سونم کی حالت نہیں دیکھی جارہی ہے۔ حامیوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن سے بھی اب اپیل کی جارہی ہے کہ کانگریس یا دوسری پارٹی سونم وانگچوک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ حکومت سے بھی اپیل ہوکہ وہ سونم وانگچوک سے بات کرے۔ کیا ہم اس حال میں پہنچادیئے گئے ہیں کہ حکومت سے بات کرنے کیلئے کسی کو اپنی زندگی داؤ پر لگانی پڑتی ہے۔ آخر حکومت کیا ثابت کرنا چاہتی ہے۔ میڈیکل کے مابقی امتحان NEET کا پرچہ لیک ہوا کہ لاکھوں روپئے دے کر Solver لگائے گئے جو دوسرے طلباء کو کامیاب کروارہے تھے ڈاکٹر بنانے کیلئے کیا ان سب کی مخالفت کرنا اتنا خراب ہے کہ مودی کی سرکار نے اپنے کسی وزیر کو جنترمنتر پر بھیجا ہی نہیں۔ کیا اس کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی کہ آگے آ کر مظاہرین سے بات کرے۔ یقین دہانی کرے۔